• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرحوم کے روزوں کا فدیہ اور مرحوم کی ملکیت میں سونے کی تقسیم

استفتاء

1۔شوہر فوت ہوگئے ہیں  انہوں نے  روزے نہیں رکھے۔ کیا ان روزوں کا  فدیہ ادا ہو سکتا ہے؟انہوں نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تھی۔

2۔شوہر کے فوت ہونے  کے بعد دراز کھولا تو اس میں آٹھ ماشے  سونا رکھا تھا ۔ میں نے گھر میں کسی کو یہ سوچ کر  نہیں بتایا کہ بیٹیوں کی شادی ہو گی تو ضرورت پڑ جائے گی، میری  تین بیٹیاں ہیں۔  لیکن ان کی شادی پر ضرورت نہیں پڑی اور  تینوں کی شادی ہوگئی ۔ جب تیسری بیٹی کی شادی پر ضرورت  پڑی تو میں نے اپنی آدھی چوڑی بیچ کر ضرورت پوری کر لی ۔اب تیسری بیٹی کی شادی کے بعد اللہ تعالی نے دل میں خیال ڈالا اب میں کیا کروں؟

میرے شوہر کے ورثاء میں بیوی ،  3 بیٹیاں، والدہ، 1 بہن اور  2 بھائی ہیں اور ایک  بھائی 3 سال پہلے فوت ہو گئے  تھے۔ان کے ورثاء میں والدہ، بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، والدہ بھی دو سال ہو گئے فوت ہو گئی  ہیں۔ اس سونے سے میں نے لاکٹ بنوالیا  لیکن استعمال نہیں کیا، بنوانے میں کتنا کم ہوگیا؟ معلوم نہیں۔

3۔زکوة دیور کے بچوں کو دے سکتے ہیں؟تین لڑکے اور دو لڑکیاں اور ایک بیوہ  ہے ،گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں چونکہ مرحوم  نے وصیت نہیں کی لہذا فدیہ ادا کرنا واجب نہیں تا ہم اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے اپنے حصے میں سے مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کرنا چاہے تو ادا کرسکتا ہے

2۔مذکورہ صورت میں چونکہ سونا میت کا ترکہ ہے لہذا ورثاء میں اس طرح  تقسیم کیا جائے گا کہ کل مال کے 16128 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 2016 حصے (12.5 فیصد)  ،تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 3584 حصے (22.222 فیصد فی کس)،  ایک بہن کو 640 حصے (3.968 فیصد)، دو بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو 1280 حصے (7.936فیصد فی کس) اور فوت شدہ بھائی کی بیوہ کو 24 حصے (0.148 فیصد) ان کے تین بیٹوں میں سے ہر ایک  بیٹے کو 34 حصے(0.210فیصد فی کس) اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 17 حصے  (0.105 فیصد فی کس )ملیں گے ۔

3۔اگر وہ مستحق زکوۃ  ہیں  تو ان کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔(جس آدمی کی ملکیت میں بنیادی ضروریات زندگی کے علاوہ  اور اگر وہ مقروض ہے تو قرض کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر کوئی چیز نہ ہو وہ  زکوٰۃ کا اصل حقدار ہے)

شامی (2/72) میں ہے:

‌ثم ‌اعلم ‌أنه ‌إذا ‌أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعا لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص

شامی (2/424) میں ہے:

(وإن) لم يوص و (تبرع وليه به جاز) إن شاء الله ‌ويكون ‌الثواب ‌للولي اختيار

(قوله ‌ويكون ‌الثواب ‌للولي اختيار) أقول: الذي رأيته في الاختيار هكذا وإن لم يوص لا يجب على الورثة الإطعام لأنها عبادة فلا تؤدى إلا بأمره إن فعلوا ذلك جاز ويكون له ثواب.

ولا شبهة في أن الضمير في له للميت وهذا هو الظاهر لأن الوصي إنما تصدق عن الميت لا عن نفسه فيكون الثواب للميت

تاتارخانیہ (20/464) میں ہے:

ولومات وترك امرأة في يدها غزل قطن وفرو وكرباس فقالت المرأة كانت هذه الثياب من قطن كان للزوج فغزلت ونسجت منه فكله للزوج و هو ميراث ميت وان كانت للمرأة فكله لها وان لم يعلم فالقول قولها ان كانت حية والقول قول الورثة ان كانت ميتة

البحر الرائق (2/262) میں ہے:

‌وقيد ‌بأصله ‌وفرعه؛ لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم، وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved