• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مختلف اوقات میں “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جاؤ” کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

میرے شوہر نے تقریباً ایک سال پہلے مجھے کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جاؤ” اس کے بعد شوہر نے مجھ سے رجوع کر لیا اور ہم دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنے لگے۔پھر تقریباً 7 ماہ پہلے شوہر نے دوبارہ مجھے کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جاؤ”اس کے بعد بھی شوہر نے مجھ سے رجوع کر لیا اور ہم دوبارہ ساتھ رہنے لگے۔اس کے بعد ہمارے ہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔اب تیسری مرتبہ شوہر نے مجھے کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، جاؤ”اس وقت میں حاملہ بھی ہوں۔براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتا دیں کہ:

1۔پہلی اور دوسری مرتبہ کہی گئی طلاقیں شرعاً واقع ہوئی تھیں یا نہیں؟

2۔رجوع کرنے اور دوبارہ ساتھ رہنے سے پہلے دی گئی طلاقوں کا شمار ختم ہوتا ہے یا وہ برقرار رہتی ہیں؟

3۔آخری مرتبہ “طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں” کہنے سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

4۔کیا اس صورت میں تین طلاقیں مکمل ہو چکی ہیں یا نکاح ابھی باقی ہے؟

5۔موجودہ حمل کی صورت میں عدت اور میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں کیا حکم ہے؟

6۔اگر آخری مرتبہ دو بار “طلاق دیتا ہوں” کہنے میں شوہر کی نیت معلوم کرنا ضروری ہے تو براہِ کرم بتائیں کہ اس کی نیت کس طرح پوچھی جائے۔

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔

جواب وضاحت: *****

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا  تو اس نے درج ذیل بیان دیا۔

شوہر کا بیان:

میں نے پہلے کہا تھا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” پھر اس کے بعد میں نے اس سے عدت کے اندر رجوع کر لیا تھا پھر میں نے دوسری مرتبہ کچھ عرصے بعد اسے کہا کہ”  ميں تمہیں طلاق” میں نے اتنا کہا تھا  کہ بیوی نے مجھے روک لیا تو میں خاموش ہو گیا  پھر اس کے بعد میں نے اس سے رجوع  کر لیا پھر اب میں نے اس کو کہا ہے کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں”  پھر اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے اپنی ساس کو تین مرتبہ کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ ہو گئی تھیں البتہ بیوی کے بیان کے مطابق دو ہوئی تھیں اور شوہر کے بیان کے مطابق ایک ہوئی تھی ۔

2۔برقرار رہتی ہیں۔

3۔دو ہوئی ہیں ۔

4۔ سابقہ کو ملا کر تین طلاقیں مکمل ہو چکی ہیں۔

5۔ عدت بچہ ہونے تک ہو گی اور میاں بیوی والا تعلق جائز نہ ہو گا۔

6۔نیت معلوم کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ صریح طلاق ہے۔ اور صریح میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں پہلی  بار جب شوہر نے کہا کہ ’’ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں جاؤ‘‘ تو یہ جملہ چونکہ طلاق کے لیے صریح ہے لہذا  اس سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی۔ اس کے بعد چونکہ عدت کے اندر رجوع ہوگیا تھا اس لیے نکاح قائم رہا لیکن طلاق شمار میں رہی کیونکہ طلاق سے رجوع کرنے کے بعد طلاق کا اثر تو ختم ہوجاتا ہے لیکن وہ طلاق شمار میں رہتی ہے۔ پھر اب سے سات ماہ پہلے جب دوبارہ شوہر نے (بیوی کے بقول)کہا کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں جاؤ‘‘ تو اس سے دوسری رجعی طلاق واقع ہوئی ۔ اس کے بعد بھی عدت کے اندر رجوع ہوگیا تھا اس لیے نکاح قائم رہا۔ پھر اس کے تقریبا تین سال بعد شوہر نے بیوی کو جب یہ کہا کہ ’’طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ‘‘ تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔ اور شوہر کے بیان کے مطابق دوسری طلاق  ” میں تمہیں طلاق ” کہنے سے تو واقع نہیں ہوئی کیونکہ یہ جملہ نامکمل ہے اس لیے انشاء طلاق کے لیے مفید نہیں  البتہ جب اس نے تیسری بار  کہا کہ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا  ہوں  تو اس سے دوسری اور تیسری طلاق واقع ہو گئی  لہذا مذکورہ صورت میں  اب تینوں  طلاقیں واقع ہو گئیں  اور نکاح ختم ہو گیا  اور بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے۔

الدر المختار مع رد المحتار (4/443) میں  ہے :

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..وان نوى خلافها ………أو لم ينو شيئا۔

بدائع الصنائع (3/ 283) میں ہے:

أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت،

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} 

الدرالمختار مع ردالمحتار (3/ 232) میں ہے:

(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل.

شامی (3/511) میں ہے:

“(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved