- فتوی نمبر: 36-338
- تاریخ: 18 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > رہن و گروی
استفتاء
مفتی صاحب! ایک آدمی نے ایک لاکھ قرض لے کر اس کے بدلے میں اپنی زمین رہن پر رکھ دی اب وہ مرتہن اس زمین میں فصل کاشت کرتا ہے تو کیا مرتہن کے لیے یہ نفع اٹھانا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: کیا جس وقت قرض کا معاملہ ہوا تھا اسی وقت مرتہن کے اس زمین سے نفع اٹھانے کی شرط تھی؟ اگر شرط نہیں تھی تو کیا یہ صورت اس علاقے میں معروف ہے؟ اگر دونوں باتیں نہیں ہیں تو کیا پہلے سے آپس میں اتنے درجے تک کے لین دین کا معمول ہے؟
جواب وضاحت: نفع اٹھانے کی شرط تو نہیں لگائی تھی البتہ علاقے میں معروف یہی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرتہن کے لیے یہ نفع اٹھانا جائز نہیں اور اگر قرض کے لیے کوئی خاص مجبوری نہ تھی تو رہن رکھوانے والا بھی گناہ گار ہوگا۔
رد المحتار(5/166) میں ہے:
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.
ردالمحتار (5/166) میں ہے:
(قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني.
قلت: وهذا هو الموافق لما سيذكره المصنف في أول كتاب الرهن وقال في المنح هناك، وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي، وكان من كبار علماء سمرقند إنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم.
قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصا وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح.
قلت: وما في الجواهر يفيد توفيقا آخر بحمل ما في المعتبرات على غير المشروط، وما مر على المشروط، وهو أولى من إبقاء التنافي. ويؤيده ما ذكروه فيما لو أهدى المستقرض للمقرض إن كانت بشرط كره وإلا فلا وأفتى في الخيرية فيمن رهن شجر الزيتون على أن يأكل المرتهن ثمرته نظير صبره بالدين بأنه يضمن
ردالمحتار (6/482) میں ہے:
قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع
امداد الفتاوی(3/172) میں ہے:
سوال : عمرو نے بکر سے سو روپے قرض لیے اور کچھ زمین عمرو نے بکر کو پانچ سال کے واسطے اس شرط پر دے دی کہ اس کی پیداواری پانچ سال تک لیے جاوپھر بعد پانچ سال کے میری زمین دیدیجیواور اس زمین کی پیداواری پانچ سال کی سو روپے سے زیادہ ہوتی ہے تو ایسا لین دین جائز ہےیا نہیں؟
جواب: ظاہر تو یہی ہے کہ یہ رعایت جو عمرو نے بکرکی کی ہے بوجہ قرض کے کی ہےاس لیے حرام اور سود ہے۔
امداد الاحکام جلد (3/510) میں ہے :
ان نصوص سے معلوم ہوا کہ رہن کی جو صورت سوال میں درج ہے یہ معاملہ ربوا میں داخل ہے (ولعن النبي صلى الله عليه وسلم اكل الربا و وموكله) پس اس صورت میں رہن رکھنا کسی مسلمان کو جائز نہیں البتہ اگر سخت مضطر ہو کہ اس کے بدون چارہ نہ ہو اور اسراف و تنعم کے لیے رہن رکھ کر روپیہ نہ لیتا ہو بلکہ ضروت شرعیہ کی وجہ سے روپیہ قرض لینا چاہتا ہو تو شاید رہن رکھنے والا گناہ سے بچ جائے باقی مرتہن کو رہن سے نفع حاصل کرنا یہ تو کسی حال میں درست نہیں (ففى الاشباه والنظائر آخر القاعدة الخامسة من الفن الاول ما نصه وفي القنية والبغية يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح وفي الحموى نحو ذلك ) اور بہتر یہ ہے کہ ایسی صورت میں بیع بالوفا کا طریقہ اختیار کر لیا جائے جس کے جواز پر متأخرین کا فتویٰ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved