- فتوی نمبر: 36-349
- تاریخ: 19 اکتوبر 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > ایمان اور کفر کے مسائل
استفتاء
1۔منکرین حدیث کا کیا حکم ہے ؟ آیا کافر ہیں یا فاسق ؟
2۔اگر کوئی صریح حدیث کا انکار کر دے جیسے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا تو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حدیث کے انکار کی دو صورتیں ہیں:
1۔کوئی شخص سرے سے حجیتِ حدیث کا منکر ہو یعنی یہ عقیدہ رکھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شرعی حجت نہیں ایسا شخص کافر ہے کیونکہ احادیث مبارکہ کا (اپنی شرائط کیساتھ) حجت ہونا قطعی اور یقینی ہے اور کسی قطعی اور یقینی امر (شرعی) کا منکر کافر ہے۔( دیکھئے حوالہ 5،4،2،1)
2۔حجیتِ حدیث کا تو منکر نہیں بلکہ کسی خاص حدیث کا انکار کرتا ہے تو اس میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:
(۱) اگر وہ حدیث متواتر ہے اور انکار بغیر کسی تاویل کے محض عناد کی وجہ سے ہے تو ایسا شخص کافر ہے ۔
(۲) اور اگر انکار کسی تاویل کی وجہ سے ہے یا وہ حدیث متواتر نہیں ہے لیکن صحیح سند سے ثابت ہے تو ایسی صورت میں انکار کرنے والا شخص کافر تو نہیں ہے تاہم فاسق اور گمراہ ضرور ہے۔ ( دیکھئے حوالہ 4،3)
1۔مفتاح الجنۃ فی الاحتجاج بالسنۃ للسیوطیؒ (ص:05) میں ہے:
فاعلموا رحمكم الله أن من أنكر كون حديث النبي صلى الله عليه وسلم قولا كان أو فعلا بشرطه المعروف في الأصول حجة، كفر وخرج عن دائرة الإسلام وحشر مع اليهود والنصارى، أو مع من شاء الله من فرق الكفرة
2۔الاحکام فی اصول الاحکام ، لابن حزم (2/79) میں ہے:
فلا بد من الرجوع إلى الحديث ضرورة ولو أن امرأ قال لا نأخذ إلا ما وجدنا في القرآن لكان كافرا بإجماع الأمة ولكان لا يلزمه إلا ركعة ما بين دلوك الشمس إلى غسق الليل وأخرى عند الفجر لأن ذلك هو أقل ما يقع عليه اسم صلاة ولا حد للأكثر في ذلك وقائل هذا كافر مشرك حلال الدم والمال
3۔ہندیہ (2/265) میں ہے:
“ومن انكر المتواتر فقد كفر ومن انكر المشهور يكفر عند البعض وقال عيسى بن ابان يضلل ولا يكفر وهو الصحيح ومن انكر خبر الواحد لا يكفر غير انه ياثم بترك القبول هكذا في الظهيرية
4۔فتاوی عزیزی (1/441) میں ہے
“اس مسئلہ میں چند احتمالات ہیں:
اول یہ کہ تمام حدیثوں کا انکار کرے یہ بعینہ کفر ہے۔
دوسرے یہ کہ حدیثِ متواتر کا انکار کرے اور اس میں کوئی تاویل نہ کرے، یہ بھی کفر ہے۔
تیسرے یہ کہ صحیح احادیث میں سے ”آحاد ” کا انکار کرے اور یہ انکار خواہشِ نفسانی سے ہو، اس وجہ سے کہ وہ حدیث طبیعت کے موافق نہ ہو یا دنیوی مصلحت کے خلاف ہو یہ گناہِ کبیرہ ہے، ایسا منکر بدعتی ہے، یعنی بدعتِ سیئہ کرتا ہے۔
چوتھے یہ کہ اس وجہ سے حدیث کا انکار کرے کہ اس کے خلاف کوئی دوسری حدیث قوی تر ہو یا یہ کہ ناقل کے قول پر اس کو اعتماد نہ ہو اس وجہ سے وہ شخص یہ سمجھتا ہو کہ فی الواقع یہ حدیث نہیں ہے اور اس خیال سے اس کو اس حدیث سے انکار ہو اور یہ انکار خواہشِ نفسانی سے نہ ہو اور نہ کسی دنیوی غرض سے ہو اور اپنے کلام کی سر سبزی بھی منظور نہ ہو اور نہ کوئی دوسری غرض فاسدہ مقصود ہو، بلکہ اس وجہ سے اس کو انکار ہو کہ وہ حدیث اس کے گمان میں علمِ اصولِ حدیث کے قواعد کے خلاف ہو یا کسی آیتِ قرآنی کے خلاف ہو یا ایسی ہی کوئی اور مناسب وجہ انکار کی اس کے نزدیک ہو تو ایسے انکار میں کچھ حرج نہیں۔
5۔فتاویٰ عثمانی (1/77) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرع مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ:
1۔ہمارے علاقے کے بعض حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ وقت میں حدیث کا جو ذخیرہ ہے وہ غیر معتبر اور جلانے کے قابل ہے۔ (معاذ اللہ )
2۔ایک اور عقیدہ یہ رکھتے ہیں کہ جنت دائمی اور غیر فانی ہے، مگر جہنم دائمی وابدی نہیں ہے، یعنی جہنم ایک مدت کے بعد فانی اور غیر ابدی ہے، اور کہتے ہیں کہ اس کی انتہاء ہونے کے بعد انسان سارے کے سارے یعنی مشرک و کافر رحمت (جنت) میں جائیں گے اور اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان رحمتی سبقت علی غضبی اور ساتھ ساتھ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی چہارم میں دوزخ کی انتہاء کے مبحث لوگوں کو دکھا دکھا کر لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے جا رہے ہیں، اب آپ بتائیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ شریعت محمدی کے مطابق ہے یا نہیں؟
جواب : – مذکورہ عقائد سخت گمراہا نہ عقائد ہیں۔ پہلا عقیدہ کہ سارا ذخیرۂ حدیث (معاذ اللہ )
نا قابلِ اعتبار ہے، کفریہ عقیدہ ہے، جس کے بعد انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اور دوسرے عقیدے پر بھی کفر کا اندیشہ ہے۔ ایسے عقائد کے شخص سے جب تک وہ توبہ نہ کرے دوستانہ خصوصی تعلقات نہ رکھنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved