- فتوی نمبر: 36-352
- تاریخ: 19 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میرے بھانجے نے وائس میسج پر تین مرتبہ اپنی بیوی سے کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” اور وہ میسج اپنے والد کو سینڈ (ارسال) کردیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو سینڈ (ارسال)کر دیا ہے ۔ہم بھانجے کے سسر کے پاس چلے گئے ۔ اسکو وائس سنادی اب بھانجا کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو میسج سینڈ (ارسال) کیا ہی نہیں اب وہ اپنی بیوی کے پاس چلا گیا ہے۔ آپ واضح فرمائیں طلاق ہوئی یا نہیں؟
سائل نے وائس میسج بھیجا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
***میں تیرے نال نئی رہنا، میں تیرے نال نئی رہنا، میں تینوں طلاق دیناں، طلاق دیناں، طلاق دیناں” (ترجمہ: ***میں نے تیرے ساتھ نہیں رہنا، میں نے تیرے ساتھ نہیں رہنا، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں)
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: *******
نوٹ: شوہر سے رابطہ کیا گیا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر واقعتاً یہ صوتی پیغام (وائس میسج) شوہر کا ہے اور اس کی بیوی کا نام بھی “حبا ” ہے تو مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
شامی (3/293) میں ہے:
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
البحر الرائق (3/272) میں ہے:
قل لها إنها طالق فتطلق للحال ولا يتوقف على وصول الخبر إليها ولا على قول المأمور ذلك
بدائع الصنائع (3/ 187) میں ہے :
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved