• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اہل تشیع کے ساتھ نکاح کا حکم

استفتاء

لڑکا یا لڑکی میں سے کوئی بھی اہل تشیع  ہو تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اہل تشیع لڑکا ہو یا لڑکی دونوں سے ہی سنی مرد یاسنی  عورت  کا نکاح جائز نہیں ہے ۔اس لیے کہ شیعہ مذہب میں بعض عقائد کفریہ ہیں مثلاً حضرت علی ؓ                       کو خدا ماننا ، حضرت ابوبکر  ؓ    کے صحابی رسول ہونے کا انکار کرنا اور حضرت عائشہ  ؓ    پر تہمت  لگانا وغیرہ جو کہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہیں  ۔ اور اگر کسی شیعہ کے کفریہ عقائد نہ بھی ہوں تب  بھی بہت سے مفاسد کی وجہ سے ان سے نکاح جائز نہیں ہے ۔

توجیہ : اگر کسی شیعہ مرد کے ایسے کفریہ  عقائد ہوں تو اس کے ساتھ مسلمان عورت کے نکاح کا عدم  جواز اور عدم انعقاد تو واضح ہے  کیونکہ کسی کافر مرد کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا ۔اور اگر کسی شیعہ عورت کے کفریہ عقائد ہوں یا شیعہ مرد کے کفریہ عقائد نہ ہوں  پھر بھی ان سے نکاح جائز نہیں ہے کیونکہ ان سے نکاح کرنے کی صورت میں  اہل تشیع کے غلط عقائد و اعمال کا اثر خود نکاح کرنے والے سنی پر اور اس کی اولاد پر براہ راست پڑتا ہے  جس سے بچنا ضروری ہے ۔ اس کی نظیر کتابیہ سے نکاح ہے کہ وہ مذکورہ مفاسد کی وجہ سے مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے  ۔

شامی(3/ 46) میں ہے:

أن ‌الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام.»

تفسیر مظہری (3/ 41) میں ہے:

«يكره ‌نكاح ‌الكتابية مطلقا اجماعا لاستلزام النكاح مصاحبة الكافرة وموالاتها وتعريض الولد على التخلق بأخلاق الكفار لاجل مصاحبة الام وموانستها قال ابن همام نكح حذيفة وطلحة وكعب بن مالك كتابيات فغضب عمر رضى الله عنه فقالوا انطلق يا امير المؤمنين وهذه القصة تدل على جواز النكاح حتى يترتب عليه الطلاق وعلى كراهته»

تقریرات الرافعی (1/200) میں ہے:

كما قال الرملي تحت قوله : وصح نكاح كتابية، أقول يدخل في هذا الرافضة بأنواعها فلايجوز أن تتزوج المسلمة السنية من الروافض و قال الرستغفني: لا تصح المناكحة بين أهل السنة والاعتزال اه فالرافضة مثلهم أو أقبح و لعله أعدل الأقوال لأنه لا يشك في كفر الرافضة. اه

کفایت المفتی (5/196)میں ہے :

شیعہ اگر حضرت علی       کو دوسرے صحابہ پر فضیلت دیتا ہے ۔ بس اس کے علاوہ اور کوئی بات اس میں شیعیت کی نہیں ہے تو یہ کافر نہیں ہے اور ایسے شیعہ کے ساتھ سنی لڑکی کا نکاح منعقد ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر شیعہ غلطی وحی یا الوہیت علی یا افک صدیقہ کا قائل ہو یا قرآن مجید میں کمی بیشی ہونے کا معتقد ہو یا صحبت صدیق کا منکر ہو تو ایسے شیعوں کے ساتھ سنی لڑکی کا نکاح منعقد نہیں ہوتا اور چونکہ شیعوںمیں تقیہ کا مسئلہ شائع اور معمول ہے اس لئے یہ بات معلوم کرنی مشکل ہے کہ فلاں شیعہ قسم اول میں سے ہے یا قسم دوم میں سے۔ اس لیے لازم ہے کہ شیعوں کے ساتھ مناکحت کا تعلق نہ رکھا جائے ۔۔۔۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ،

فقہ اسلامی ، مصنفہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ (ص33)میں ہے :

مسئلہ: مسلمان مرد کا کسی اہل کتاب عورت یعنی یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح ہو تو جاتا ہے لیکن بہت سی خرابیوں کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے۔ دو خرابیاں یہ ہیں:

۱۔مردوں میں عام طور سے دینداری مغلوب ہے یا سرے سے ہے ہی نہیں ۔ اس صورت میں پیدا ہونے والے بچوں پر ماں کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بچے ماں کا دین اختیار کر لیتے ہیں ۔ مسلمان باپ کی وجہ سے بچے مسلمان ہوئے لیکن بعد میں انہوں نے ماں کا دین اختیار کر لیا تو مرتد ہوئے ۔

۲۔ خود مرد بھی عورت کے افکار و نظریات سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے ان عورتوں سے نکاح کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

مسئلہ: بعض حضرات کے نزدیک اثناعشری شیعہ اور منکرین حدیث اہل کتاب کے حکم میں ہیں اس  لیے مذکورہ بالا دونوں وجہوں سے ان سے  بھی نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ان کے علاوہ ایسی عورتوں سے نکاح کرنے میں اور بھی زیادہ خطرے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور لاعلمی کی وجہ سے عام لوگ بھی ان کو مسلمان سمجھ لیتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved