- فتوی نمبر: 36-350
- تاریخ: 19 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
طلاق کے ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ شوہر نے اپنے گھر والوں (والدین/بہن بھائیوں) سے بات چیت کرتے ہوئے یہ جملہ کہا کہ “میں طلاق ڈینداں” (میں طلاق دیتا ہوں ) پھر کچھ دیر بعد کہا کہ” اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو میں طلاق ڈے ڈینداں”(اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو میں طلاق دے دیتا ہوں)موجودہ صورتحال کی تفصیل یہ ہے کہ شوہر کا اس وقت طلاق دینے یا بیوی کو رشتہ زوجیت سے فارغ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف گھر والوں کو مستقبل کے ایک ممکنہ فیصلے یا ارادے سے آگاہ کر رہا تھا۔ یہ بات بیوی کے سامنے یا اسے مخاطب کر کے نہیں کہی گئی، بلکہ گھر والوں کے سامنے کہی گئی۔
کچھ علماء کا کہنا ہے کہ دھمکی کی نیت سے بھی اگر یہ الفاظ کہے جائیں تو طلاق ہو جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس مخصوص صورت میں، جہاں شوہر گھر والوں کو اپنے مستقبل کے ارادے کا بتا رہا ہو، کوئی طلاق واقع ہوئی ہے؟کیا “میں طلاق دیتا ہوں یا دے دیتا ہوں” کے الفاظ (جب وہ مستقبل کے فیصلے کے سیاق و سباق میں ہوں) صریح طلاق میں شمار ہوں گے یا وعدہ/دھمکی میں شمار ہوں گے؟
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: *****
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا۔
شوہر کا بیان:
گھر میں کسی مسئلہ پر باتیں ہورہی تھیں تو گھر والوں کے سامنے میں نے یہ کہا کہ” میں طلاق ڈینداں (میں طلاق دیتا ہوں ) پھر کچھ دیر بعد کہا کہ اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو میں طلاق ڈے ڈینداں(میں طلاق دے دیتا ہوں )۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی ہے لہذا شوہر کو عدت کے اند ر رجوع کا حق حاصل ہے،اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو یہ طلاق بائنہ بن جائے گی اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہو گا۔
نوٹ: شوہر کے پاس اب مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں شوہر کا یہ کہنا کہ ”میں طلاق ڈینداں” (میں طلاق دیتا ہوں ) صریح طلاق ہے اور حال کا جملہ ہے اور سرائیکی زبان میں حال کا جملہ انشاء کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس جملے سے طلاق کے وقوع کےلیے نیت شرط نہیں ہے نیز طلاق کے الفاظ میں اگرچہ صراحتا بیوی کی طرف نسبت نہیں پائی جا رہی لیکن معنی اضافت پائی جا رہی ہے کیونکہ عام طور پر طلاق کا لفظ بیوی کو ہی بولا جاتا ہے۔لہذا اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ، اس کے بعد شوہر کا یہ کہنا کہ اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو ” میں طلاق ڈے ڈینداں” ( اگر مسئلہ حل نہیں ہوتا تو میں طلاق دے دیتا ہوں )یہ وعدہ طلاق ہے لہذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
در مختار (4/443) میں ہے :
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..وان نوى خلافها ۔۔۔۔۔۔۔۔او لم ينو شيئا۔
بدائع الصنائع (3/289) میں ہے:
وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة، فلا تتصور الاستدامة
بدائع الصنائع (3/ 180) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت،
ہندیہ(1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
شامی(3/ 248) میں ہے:
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال: إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت. وقال صاحب التحفة: لا تطلق ديانة اهـ وما في التحفة لا يخالف ما قبله لأن المراد طلقت قضاء فقط، لما مر من أنه لو أخبر بالطلاق كاذبا لا يقع ديانة بخلاف الهازل، فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا، نعم يمكن حمله على ما إذا لم يقل إني أردت الحلف بطلاق غيرها فلا يخالف ما في البزازية ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم
ہندیہ(1/ 384)میں ہے:
قالت لزوجها من باتو نميباشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved