- فتوی نمبر: 37-93
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > روزمرہ استعمال کی اشیاء
استفتاء
کیا Lux (لکس) صابن استعمال کرنا جائز ہے؟ اس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں۔
| Sodium Palmate(سوڈیم پامیٹ) | Polysorbate20(پولی سوربیٹ 20) |
| Sodium Palm Kernelate(سوڈیم پام کرنلیٹ) | Sodium Ethoanate(سوڈیم ایتھونیٹ) |
| Lauric Acid(لورک ایسڈ ) | Tetra Sodium EDTA(ٹیٹرا سوڈیم ای ڈی ٹی اے) |
| Tocopherol Acetate(ٹوکوفیرل ایسیٹیٹ) | Di Sodium Distyrlbi Phenyl (ڈائی سوڈیم ڈائی اسٹائرل بائی فینائل) |
| Rosa Gallica Flower Extract (روزا گیلیکا فلاور ایکسٹریکٹ) | Hydroxy Citronellal (ہائیڈروکسی سٹرونیلل) |
| Jasminum Flower Extract (جاسمینم فلاور ایکسٹریکٹ) | Sodium Ascorbyl Phosphate (سوڈیم ایسکوربائل فاسفیٹ) |
| Nelumbium Speciosum Flower Oil (نیلیمبیم اسپیشیوسم فلاور آئل)
| Glycerin(گلیسرین) |
| Mentha Arvensis Leaf Oil (مینتھا آروینسس لیف آئل)
| Talc(ٹالک) |
| Martini Oil(مارٹینی آئل) | Sodium Sulfate(سوڈیم سلفیٹ) |
| Hydrogenated Castor Oil PEG-40 (ہائیڈروجنٹیڈ کاسٹر آئل پی ای جی -40)
| Sodium Chloride(سوڈیم کلورائیڈ) |
| Linear Alkyl Benzen Sulfonic Acid (لینئر الکائل بینزین سلفونک ایسڈ) | Water(پانی) |
| Titanium Dioxide(ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ) | Sericin(سیریسن) |
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ Lux (لکس) صابن کااستعمال درست ہے کیونکہ مذکورہ صابن کےپیکٹ پردرج اجزاءناپاک نہیں ہیں ۔
نوٹ: صابن بننے میں چونکہ ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے اس لیے اگر کسی صانع نے ناپاک چیز ڈالی بھی ہو تو قلبِ ماہیت کی وجہ سے صابن کا استعمال درست ہوتا ہے۔
توجیہ: Lux (لکس) صابن کے پیکٹ پر 24 اجزائےترکیبی مذکور ہیں جن میں سے بارہ ( 12) نباتاتی، چھ(6) مصنوعی،ایک (1) حیوانی اور پانچ (5) معدنی ہیں۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے۔
نباتاتی اجزاء:
1۔Sodium Palmate (سوڈیم پالمیٹ) دواجزاءکےکیمیائی ردعمل سےبنتاہے پام آئل اورسوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ۔
2۔ Sodium Palm Kernelate (سوڈیم پام کرنلیٹ) ان دونوں اجزاءکوPalm Oil کھجورکاتیل Palm Kernel Oil (کھجورکی گھٹلی کاتیل )Sodium Hydroxid سےحاصل کیاجاتاہے۔
3۔ Lauric Acid (لورک ایسڈ ) ناریل یا پام کے تیل سے حاصل ہونے والا تیزاب۔
4۔ Tocopherol Acetate (ٹوکوفیرل ایسیٹیٹ) وٹامن E کی ایک شکل جو سویا بین، سورج مکھی اور بنولے کے تیلوں سے حاصل کی جاتی ہے۔
5۔Rosa Gallica Flower Extract (روزا گیلیکا فلاور ایکسٹریکٹ) سرخ گلاب کے پھول کا عرق۔
6۔Jasminum Flower Extract(جاسمینم فلاور ایکسٹریکٹ)چمبیلی کے پھول کا عرق۔
7۔Nelumbium Speciosum Flower Oil(نیلیمبیم اسپیشیوسم فلاور آئل)کنول کے پھول کا تیل۔
8۔Mentha Arvensis Leaf Oil (مینتھا آروینسس لیف آئل) جنگلی پودینے کے پتوں کا تیل۔
9۔ Martini Oil(مارٹینی آئل) خوشبودار پھول سے حاصل کیا جانے والا تیل۔
10۔Hydrogenated Castor Oil PEG-40 (ہائیڈروجنٹیڈ کاسٹر آئل پی ای جی -40)ارنڈی کے تیل کی کیمیائی شکل جس میں ہائیڈروجن گیس شامل کرکےاسےسخت کردیاجاتاہے۔
11۔ Hydroxy Citronellal (ہائیڈروکسی سٹرونیلل)خوشبودار مادہ ، اسے بنانے کے لیے قدرتی جڑی بوٹیوں کے تیل سے خام مال حاصل کیا جاتا ہے۔براہ راست پودےسےنہیں ملتا بلکہ لیب میں کیمیکل پروسیس سےبنتاہے۔اس کےاجزائےترکیبی درج ذیل ہیں:
(1)سیٹرونیلال(2)پانی(3)سیٹرونیلوٹ
12۔Glycerin (گلیسرین) گلیسرین نباتات سے بھی حاصل ہوتی ہے اور حیوانات کی چربی سے بھی۔ نباتات سے حاصل ہونے والی گلیسرین پاک ہوتی ہے، انٹر نیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق آجکل تجارتی سطح پر پام آئل سے بنی گلیسرین کا استعمال غالب ہے۔ اور اگر گلیسرین حیوانات کی چربی سے حاصل کردہ ہو اور بالفرض وہ چربی ناپاک ہی ہو تب بھی چونکہ صابن بن جانے سے اس ناپاک چربی کی حقیقت بدل جاتی ہے، اور اصل حقیقت کے بدل جانے کی وجہ سے اسے پاک شمار کیا جائے گا۔
معدنی اجزاء:
13۔Talc(ٹالک) (میگنیشیم سلیگیٹ) زمین سے نکلنے والا قدرتی پتھر۔میگنیشم والی چٹانوں سےنکلتاہے۔
14۔Sodium Sulfate(سوڈیم سلفیٹ)جھیلوں اور نمکین پانی وزیر زمین معدنی ذخائر سے حاصل ہوتا ہے۔
15۔Sodium Chloride(سوڈیم کلورائیڈ)کھانے کانمک ۔
16۔Titanium Dioxide(ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ) زمین سےنکلنےوالی ایک سفیدمعدنیات ۔
17۔ Water (پانی)
حیوانی جزء:
18۔ Sericin(سیریسن)ریشم کے کیڑے کے کویا سے نکالی جانے والی قدرتی پروٹین۔
ریشم کا کیڑا چونکہ حشرات میں سے ہے اور حشرات الارض پاک ہیں لہٰذا ریشم کے کیڑے سے حاصل ہونے والی پروٹین بھی پاک ہے۔
مصنوعی اجزاء:
19۔ Linear Alkyl Benzen Sulfonic Acid(لینئر الکائل بینزین سلفونک ایسڈ) یہ دو اہم کیمیکلز(لینئرالکائل بینزین اورسلفرٹرائی آکسائیڈ) سے تیار ہوتا ہے۔
20۔ Polysorbate 20 (پولی سوربیٹ20) سور بیٹول اور ایتھیلین آکسائیڈ کو ملا کر بنایا جاتا ہے سوربیٹول قدرتی میٹھا الکحل مادہ ہے جو مکئی یا تا پیو کا (پودے) سے حاصل کیا جاتا ہے اور ایتھیلین آکسائیڈ یہ پٹرول کیمیکل گیس ہے۔
21۔ Sodium Ethoanate (سوڈیم ایتھونیٹ) سوڈیم ایسیٹیٹ کی ایک شکل ہے یہ ایک نمک ہے یہ ایسیٹک ایسڈ اور سوڈیم پر مبنی کسی الکلی بیکنگ سوڈا یا کاسٹک سوڈا کے ملاپ سے بنتا ہے۔
22۔ Tetra Sodium EDTA (ٹیٹرا سوڈیم ای ڈی ٹی اے) یہ خود تین خام مال(ایتھیلین ڈائی امائن فارملڈیہائیڈ سوڈیم سائنائیڈ ) سے ملا کر بنایا جاتا ہے۔
23۔ Disodium Distyrlbi Phenyl (ڈائی سوڈیم ڈائی اسٹائرل بائی فینائل) یہ پیٹرو کیمیکلز کے مختلف کیمیائی تعاملات سے تیار کیا جاتا ہے۔
24۔ Sodium Ascorbyl Phosphate(ایسکوربائل فاسفیٹ) یہ پاؤڈر ہے درج ذیل اجزاء سے بنتا ہے۔
(۱)فاسفور ریلیٹنگ ایجنٹ: فاسفورس اور آکسیجن کا مرکب جو وٹامن سی کے مالیکیول کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
(۲)ایل ایسکور بک ایسڈ یہ خالص وٹامن سی ہے جو مکئی سے حاصل کردہ گلو کوز اور سور بیٹول کی خمیر کاری کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے ۔
(۳)سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ۔
مصنوعی اجزاء کا حکم:
مذکورہ اجزاء کے بنیادی اجزاء چونکہ پاک ہیں اس لیے یہ اجزاء بھی پاک ہیں۔
نوٹ: ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer)کے ساتھ ہے، صانع (Manufacturer) کیساتھ نہیں کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع (Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں جبکہ صانع (Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ تاہم اگر صانع (Manufacturer) نے صابن میں نجس اجزاء کو ڈالا ہو تو صابن بننے سے پاک ہونے کے باوجود صانع کا یہ فعل جائز نہ ہوگا اس لیے ہمارا یہ فتویٰ صانع (Manufacturer) کے لیے جواز یا سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں رکھتا ۔
الاصل للشیبانی (1/ 28) میں ہے:
«قلت أرأيت إن وقع في إنائه ذباب أو زنبور أو عقرب أو خنفساء أو جراد أو نمل أو صراصر فمات فيه أو وجد ذلك في الجب ميتا هل يفسد ذلك الماء قال لا قلت لم قال لأنه ليس له دم فلا بأس بالوضوء منه وكذلك كل شيء ليس له دم قال نعم]
شامی (1/ 316) میں ہے:
«ثم هذه المسألة قد فرعوها على قول محمد بالطهارة بانقلاب العين الذي عليه الفتوى واختاره أكثر المشايخ خلافا لأبي يوسف كما في شرح المنية والفتح وغيرهما. وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ.
ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة،»
بہشتی زیور کے نویں حصے طبی جوہر (ص:104) میں ہے:
کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں دم سائل نہ ہو پاک ہیں جیسے اکثر حشرات الارض بچھو، تتیے چھوٹی چھپکلی جس میں دم سائل نہ ہو چھوٹا سانپ جس میں دم سائل نہ ہو خارجاً ان کا استعمال ہر طرح درست ہے اور داخلا سب حرام ہیں سوائے ٹڈی کے۔
فتاویٰ عثمانی (4/498) میں ہے:
جو صابن یا گلیسرین مردار کی چربی سے بنائے گئے ہوں اگر ان کو بناتے وقت کیمیاوی عمل کے ذریعے چربی کی حقیقت بدل کر کچھ اور ہو جائے اور ظاہر یہی ہے کہ صابن بن جانے سے چربی کی حقیقت بدل جاتی ہے تو یہ صابن اور گلیسرین پاک ہے۔
فتاویٰ محمودیہ (1/206) میں ہے:
سوال: اگر ناپاک تیل یا چربی سے صابن بنا لیا جائے تو اس صابن کا کیا حکم ہے؟
جواب: جب صابن بنانے سے اصل حقیقت بدل گئی تو وہ پاک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved