- فتوی نمبر: 37-94
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > جنایات کا بیان
استفتاء
مفتی صاحب!اگر کوئی شخص حرم سے نکل کر طائف چلا جائے اور وہاں سے بغیر احرام باندھے حرم میں داخل ہوجائے تو کیا دم لازم آئے گا ؟
وضاحت مطلوب ہے: کیااس شخص کا طائف سے واپس حرم آنے کا ہی ارادہ تھا یا ارادہ کسی اور جگہ کا تھا ،اور پھر وہاں سے حرم گیا ؟
جواب وضاحت: جی ان کا عمرہ کرنے کے لیے طائف سے واپس حرم آنے کا ہی ارادہ تھا ۔
مزید وضاحت مطلوب ہے:کیا اس شخص نے عمرہ کرلیا ہے یا کرنا ہے؟
جواب وضاحت : جی!اس نے مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرلیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شخص پر دم لازم آئے گا جوکہ حدود حرم میں ادا کرنا ضروری ہوگا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں ایسے شخص (میقات کے باہر سے حرم میں آنے والا )کیلئے اصل حکم یہ تھا کہ واپس جاکر کسی بھی قریبی میقات سے عمرہ کا احرام باندھ لیتا اور پھر عمرہ کرتا تو اس پر دم نہ آتا ،اب چونکہ اس نے میقات پر جائے بغیر مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرلیا ہے تو اس پر دم لازم ہوگا ،جوکہ حدود حرم میں ہی دینا ضروری ہوگا۔
الدر المختار (3/551) میں ہے:
(وحرم تاخیر إلاحرام عنها )کلها (لمن) أی لآفاقی(قصد دخول مكة) یعنی الحرم (ولو لحاجة) غیر الحج.
وفی الشامية : تحت قوله (حرم….الخ) فعليه العود إلى میقات منها وإن لم یکن میقاته لیحرم منه وإلا فعليه دم ،كما سياتي بيانه في الجنايات.
الدرالمختارمع رد المحتار (3/706) میں ہے:
(آفاقی )مسلم بالغ (یرید الحج أو العمرة وجاوز وقته ثم أحرم لزمه دم …. فإن عاد) إلى میقات ما، (ثم أحرم أو)عاد إليه حال کونه (محرما لم یشرع فی نسک ولبی سقط دمه).
وفی الشامية:تحت قوله(إلى میقات ما) فالمراد أی میقات کان، سواءکان میقاته الذی جاوزه غیر محرم أو غیر أقرب أو أبعد لانها کلها فی حق المحرم سواء.والأولى أن یحرم من وقته.
مناسک ملا علی القاری(ص:84) میں ہے:
(من جاوز میقاته) أی میقاته الذی وصل اليه سواء کان میقاته الموضوع المعین له شرعا أم لا (غیر محرم) بالنصب علی الحال (ثم أحرم ) أی بعد المجاوزة (أو لا) أی لم یحرم بعدها (فعليه العود) أی فیجب عليه الرجوع (إلى وقت) أی إلى میقات من المواقیت ولو کان أقربها إلى مكة، ولم یتعین عليه العود إلى خصوص میقاته الذی تجاوزعنه بلااحرام …. (وإن لم یعد) أی مطلقا (فعليه دم ) أی لجاوزة الوقت.
مناسك ، ملا علی قاری(ص:299) میں ہے:
(والثالث:ذبحه فی الحرم) بالاتفاق سواء وجب شكرا أو جبرا.
غنیۃ الناسک (ص:241) میں ہے:
والکفارات کلها واجبة على التراخی فلا یأثم بالتاخیر عن أول وقت الإمکان ویکون مؤدیا لا قاضیا فی وقت أدی وإنما یتضیق عليه الوجوب فی آخر عمره فی وقت یغلب علی ظنه أنه لو لم یؤد لفات فان لم يؤده فمات أثم.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved