- فتوی نمبر: 37-96
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا خواتین کے لیے رمضان کے مہینے میں حیض بند کرنے والی گولی کا استعمال کرنا جائز ہے؟ اس نیت کے ساتھ کہ مکمل مہینہ ر وزہ رکھ کر رمضان کا اجر وثواب بدرجۂ اتم پاسکے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز ہے لیکن نہ کیا جائے کیونکہ یہ تکلف ہے۔ خیر القرون والے نیکی کے کاموں پر زیادہ حریص تھے لیکن وہ اس عذر کو دور کرنے کے لیے تکلف میں نہ پڑتے تھے اور نہ ہی عورت کے لیے بعد میں روزہ رکھنے پر اجر وثواب میں کوئی کمی سمجھتے تھے۔
الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف ،علاء الدین ابو الحسن علی بن سلیمان بن احمد المرداوی حنبلی، ت: ۸۸۵ھ (2/471) میں ہے:
يجوز شرب دواء مباح لقطع الحيض مطلقا. مع أمن الضرر، على الصحيح من المذهب، نص عليه
درء القول القبیح بالتحسین والتنقیح ،سلیمان بن عبد القوی بن الكريم الطوفی حنبلی، ت: ۷۱۶ھ (ص:148) میں ہے:
وأجاز العلماء شرب دواء لقطع الحيض.
المبدع فی شرح المقنع ،ابراہیم بن محمد بن عبد الله أبو إسحاق، برہان الدین ،ت:۸۸۴ھ (1/ 258) میں ہے:
لا بأس بشرب دواء مباح لقطع الحيض إذا أمن ضرره، نص عليه، واعتبر القاضي إذن الزوج كالعزل، وشربه يجوز لإلقاء نطفة، ذكره في ” الوجيز ” ويجوز لحصول الحيض، إلا قرب رمضان لتفطر. ذكره أبو يعلى الصغير.
آپ کے مسائل اور ان کا حل (4/570) میں ہے:
سوال: رمضان شریف میں بعض خواتین دوائیاں وغیرہ کھاکر اپنے ایام کو روک لیتی ہیں، اس طرح رمضان شریف کے پورے روزے رکھ لیتی ہیں، اور فخریہ بتاتی ہیں کہ ہم نے تو رمضان کے پورے روزے رکھے، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب: یہ تو واضح ہے کہ جب تک ایام شروع نہیں ہوں گے، عورت پاک ہی شمار ہوگی، اور اس کو رمضان کے روزے رکھنا صحیح ہوگا۔ رہا یہ کہ روکنا صحیح ہے یا نہیں؟ تو شرعاً روکنے پر کوئی پابندی نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ فعل عورت کی صحت کے لئے مضر ہو تو جائز نہیں۔
مسنون عمرہ، مصنفہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب: (ص:112) میں ہے:
آجکل اس بات کا رواج عام ہورہا ہے کہ عورتیں جب حج یا عمرہ کے لیے جاتی ہیں تو یہ سوچ کرکہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور طواف کے لیے ملے وہ حیض کو مؤخر کرنے والی دوائیں استعمال کرتی ہیں ایسا کرنا ایک تکلف ہے اور صحابیات نے ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا۔ حضرت عائشہؓ حیض کی وجہ سے حج سے پہلے عمرہ نہیں کرسکیں اور حضرت صفیہؓ کو حیض کی وجہ سے طواف وداع ترک کرنا پڑا ۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ان تکلفات میں نہ پڑے لیکن اگر پھر بھی کھالی تو گناہ نہیں ہے۔
اگر حیض کی وجہ سے حج یا عمرہ کے نظم میں فرق پڑے مثلاً یہ اندیشہ ہو کہ روانگی کے وقت حیض شروع ہوں گے اور سیدھے مدینہ منورہ جانا ہے اور مدینہ منورہ کا پورا قیام حیض میں گزر جائے گا یا پہلے مکہ مکرمہ گئے تو حیض کی وجہ سے عمرہ نہ کرسکے گی اور اسی حالت میں مدینہ منورہ جانا ہوگا تو احرام بہت طویل ہوجائے گا یا صرف عمرہ کے لیے جانا ہے اور صرف ایک ہفتہ کے لگ بھگ ٹھہرنا ہوگا اور آنے جانے کی تاریخ پر اپنا اختیار نہیں اور دوا نہ کھائی تو شاید عمرہ ہی نہ کرسکے تو ایسی حالتوں میں کچھ حرج نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved