- فتوی نمبر: 37-106
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے دادا، دادی کے دو بچے (ایک بیٹا اور ایک بیٹی یعنی میرے والد اور میری پھوپھی ) ہیں۔ میری دادی کا انتقال ہو گیا تھا اب ان دو بچوں کے درمیان میرے دادا نے اپنی جتنی زمین ہے اس کو تقسیم کرنا تھا بیٹی کا کہنا تھا کہ میں اپنا حصہ اپنے بھائی کو دوں گی اب اس کے باپ نے اس کو کہہ دیا کہ بیٹی تم اپنا حصہ لے لو اور تمہارا بھائی بھی اپنا حصہ لے لے تو بیٹی کہہ رہی تھی نہیں میں نے اپنے بھائی کو ہی اپنا حصہ دینا ہے تو اس پر ان دونوں باپ بیٹوں نے جو اس بیٹی کا بیٹا ہے اس سے پوچھا کہ تمہاری امی اپنی زمین کا حصہ تمہارے ماموں کو دے رہی ہیں تو اس بیٹے نے کہا مجھے کوئی مسئلہ نہیں تو وہ دونوں باپ بیٹا گئے باپ نے اپنے بیٹے کے نام ہبہ کروا دیا اس کے بعد باپ بھی اور بیٹی بھی تقریبا 10 سال تک زندہ رہے تب بھی کوئی مسئلہ نہ ہوا پھر دونوں کا انتقال ہو گیا ۔ میرے والد اور ان کے بھانجے نے بھی بیس سال کا زمانہ ایک ساتھ گزارا کوئی مسئلہ نہ ہوا لیکن اب میری دادی کی وراثتی زمین نکلی ہے جو ان کو والدین سے ملی ہے پہلے کسی کو معلوم نہ تھا پھر کسی نے میرے والد کو بتایا کہ تمہاری والدہ کی زمین نکلی ہے تو میرے والد نے اپنے بھانجے کو نہیں بتایا کسی اور نے بھانجے کو بتایا کہ تمہاری نانی کی جگہ نکلی ہے تو وہ بھانجا اپنے ماموں کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ تم نے مجھ کو بتایا نہیں کہ میری نانی کی زمین نکلی ہے لہٰذا میں تم سے وہ زمین جو میری امی کی تھی اور یہ زمین جو میری نانی کی نکلی ہے ان دونوں زمینوں میں سے اپنا حصہ لوں گا تو اس پر اس ماموں نے کہا کہ جو نانی کی زمین نکلی ہے وہ تم لے لو لیکن وہ جو تمہاری امی کی زمین ہے وہ تمہیں نہیں ملے گی اس نے اپنے ماموں کے ساتھ بدتمیزی کی پھر گاؤں کے چوہدری کے پاس فیصلہ گیا تو وہ بھانجا نہیں مانا اب وہ اپنے ماموں سے ناراض ہو کر اپنے شہر واپس چلا گیا اور ماموں (بیٹے) نے اپنی والدہ والی زمین کے سارے پیسے مسجد کو دے دیے یہ میرے والد اور میرے پھوپھی زاد بیٹے کا اختلاف ہے یہ جو زمین بعد میں نکلی ہے وہ میری پھوپھو کے علم میں نہیں تھی۔ اس نے صرف والد سے ملنے والی زمین بھائی کو ہبہ کی تھی ، میرے والد نے جو پیسے مسجد میں دیے ہیں ان سے میرے پھوپھی زاد کا حق ادا ہوگیا ہے یا یہ زمین کی قیمت اسی کو دینا ضروری ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے پھوپھی زاد بھائی کا آپ کی دادی کی وراثت میں حصہ ہے اور آپ کے والد کے مسجد میں پیسے دینے سے ان کے بھانجے کا حق ادا نہیں ہوا بلکہ بھانجے کا حق اسے دینے سے ہی ادا ہوگا۔
توجیہ: بہن نے اپنی رضامندی سے جو زمین اپنے بھائی کو دی تھی وہ، وہ زمین تھی جو اس کے والد اپنی ملکیت اپنی زندگی میں اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہ رہے تھے لہذا بھائی اس زمین کا مالک بن گیا اور بہن کے بیٹے کا اس میں حصہ نہیں اور جس زمین میں بہن کا اپنی والدہ کے ترکے میں سے حصہ تھا وہ زمین بہن نے بھائی کو نہیں دی اس لیے وہ زمین بہن کے فوت ہونے کے بعد اس کے شرعی وارثوں کو دینا ضروری ہے۔
المفاتیح فی شرح المصابیح (3/483) میں ہے:
وقال: “ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه”.
قوله: “ألا لا تظلموا” (الظلم): وضع شيء في غير موضعه، ويدخل في هذا النهي أخذ أموال الناس بالباطل، وإيذاؤهم، وشتمهم
مرقاۃ المفاتیح(5/1974) میں ہے:
وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في ” شعب الإيمان”، والدارقطني في ” المجتبى “.
(” لا يحل مال امرئ “) أي: مسلم أو ذمي (” إلا بطيب نفس “) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي في ” شعب الإيمان “، والدارقطني في ” المجتبى “.
بذل المجہود (1/37) میں ہے:
صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالا بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك، وإلا ففي جميع الصور يجب عليه أن يتصدق بمثل تلك الأموال على الفقراء،
دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام (1/96) میں ہے:
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار……….. ليس لأحد الشركاء أن يركب الحيوان المشترك أو أن يحمله متاعا بدون إذن الشريك الآخر فإذا ركبه أو حمله وتلف يكون ضامنا حصة الشريك. ….. والإجارة والهبة والصلح عن المال من المسائل المتفرعة عن هذه القاعدة
مجلۃ الاحکام (ص:209) میں ہے:
لأحد الشريكين إن شاء بيع حصته إلى شريكه إن شاء باعها لآخر بدون إذن شريكه…. … أما في صورة خلط الأموال واختلاطها التي بينت في الفصل الأول فلا يسوغ لأحد الشريكين أن يبيع حصته في الأموال المشتركة المخلوطة أو المختلطة بدون إذن شريكه.
کفایت المفتی(8/249) میں ہے:
سوال: ایک مسلمان بے وارث کا کچھ مال اور نقد رہ گیا ہے صاحب موصوف انتقال کر گئے ہیں اب کچھ نقد اور کچھ سامان چھوڑ گئے ہیں مرتے وقت کچھ نصیحت وغیرہ نہیں کی یہاں کے مسلمانوں میں تفرقہ پڑا ہوا ہے کچھ کہتے ہیں کہ مرحوم جو روپیہ نقد اور سامان چھوڑ گئے ہیں یہ سب مسجد کے کاروبار پر خرچ کیا جاوے اور بعض کہتے ہیں کہ مرحوم نے وقف تو نہیں کیا مسجد کے لیے مسجد پر خرچ کرنا جائز نہیں؟
الجواب: مرحوم کا کوئی قریب یا بعید کا وارث موجود ہو تو مرحوم کا مال اس کا حق ہے اگر وہ کہیں باہر کے تھے تو ان کے وطن سے تحقیق کی جائے اور تکمیلِ تحقیق تک مال امانت رکھا جائے اس کے بعد بیت المال میں دے دیا جائے لیکن چونکہ اب بیت المال نہیں ہے تو میت کی طرف سے کسی بھی کارِ خیر میں خرچ کر دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved