- فتوی نمبر: 37-107
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
میں نے بیوی سے کال پر بات کرتے ہوئے شدید غصہ کی حالت میں اس کو تین مرتبہ طلاق کےالفاظ بول دیے ہیں۔ غصہ کی حالت یہ تھی کہ مجھے اپنے الفاظ پر قابو نہیں تھا بلکہ مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ میں نے کیا بول دیا ہے ۔ بعد میں بیوی کے بتانے پر معلوم ہوا کہ میں نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں ۔ میری نیت اس کو طلاق دینے کی ہرگز نہیں تھی ۔ میں کال کے دوران غصہ میں دیوار پر مکے مارتا رہا اور اپنا سر بھی میں نے دیوار پر ٹکرایا ۔اس کا احساس بھی بعد میں ہاتھ پر چوٹ کے نشان دیکھ کر ہوا ۔
بیوی کا بیان :
دارالافتاء کے واٹس ایپ نمبر سے بیوی کا وضاحتی بیان لیا گیا تو اس نے صوتی پیغام کے ذریعہ اپنا درج ذیل بیان دیا :
میرے شوہر کو جب غصہ آتا ہے تو قابو سے باہر ہوجاتے ہیں ۔غصہ میں کئی دفعہ دیوار پر سر مارچکے ہیں ۔ اس دن جب فون پر لڑائی ہوئی تھی تو میں طلاق کا مطالبہ کررہی تھی ۔ وہ بہت غصہ میں تھے ۔ انہوں نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول کر فون بند کردیا اور مجھے بلاک کردیا ۔ بعد میں جب بات ہوئی تو وہ مان ہی نہیں رہے تھے کہ انہوں نے ایسے الفاظ بولے ہیں ۔میں نے ان کو بتایا کہ آپ نے ایسے الفاظ بولے تھے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً طلاق کے الفاظ بولتے وقت شدید غصہ کی وجہ سے شوہر کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ اسے اپنے طلاق دینے کا علم نہیں تھا یا اس نے غصہ میں دیوار پر مکُے مارے اور اپنا سر بھی دیوار سے ٹکرایا تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
توجیہ: طلاق کے الفاظ بولتے وقت اگر غصہ اتنا شدید ہوکہ شوہر کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کا علم نہ ہو یا اس سے خلاف ِعادت اقوال وافعال صادر ہونے لگیں تو غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔ مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق اس سے غصہ کی شدت میں خلاف عادت افعال مثلاً دیوار پر مکے مارنا اور دیوار میں سر مارنا سر زد ہوئے ہیں نیز اسے طلاق کے الفاظ بولنے کا علم بھی نہیں تھا اگر واقعتاً ایسا ہی ہوا ہے تو غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
رد المحتار(4/439) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله. اه……………
(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved