• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

محبتاً بیوی کے پاؤں چومنا

استفتاء

کیا بیوی کے پاؤں محبت کے طور پر چومنا جائزہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

محبت کے طور پر چومنا جائز ہے، تعظیم اور ادب کے طور پر چومنا جائز نہیں۔

توجیہ:  پاؤں چومنا محبت کے طور پر بھی ہو سکتا ہے اور تعظیم کے طور پر بھی ہو سکتا ہے۔ تعظیم کے طور پر شوہر کا بیوی کے پاؤں چومنے میں قلب موضوع ہے  یعنی شریعت میں بیوی کو تو شوہر کی تعظیم کا حکم ہے لیکن شوہر کو بیوی کی تعظیم کا حکم نہیں جبکہ مذکورہ صورت میں اس ضابطے کا الٹ ہے لہٰذا تعظیم کے طور پر چومنا جائز نہیں، البتہ محبت یا شہوت کے طور پر چومنا جائز ہے۔

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  (6/ 25)میں ہے:

وذكر أبو الليث أن التقبيل على خمسة أوجه قبلة الرحمة كقبلة الوالد لولده، وقبل النبي صلى الله عليه وسلم الحسن بن علي رضي الله عنهما، وقبلة التحية كقبلة المؤمنين بعضهم بعضا، وقبلة الشفقة كقبلة الولد لوالديه، وقبلة المودة كقبلة الرجل أخاه على الجبهة، وقبلة الشهوة كقبلة الرجل امرأته أو أمته وزاد بعضهم قبلة الديانة، وهي قبلة الحجر الأسود.

شرح سنن ابن ماجہ ، للسيوطی (ص263) میں ہے:

فائدة قيل التقبيل على خمسة أوجه قبلة المودة للولد على الخد وقبلة الرحمة لوالديه على الرأس وقبلة الشفقة لأخيه على الجبهة وقبلة الشهوة لامرأته وامته على الفم وقبلة التحية للمؤمنين

الاختيار لتعليل المختار (3/ 105)میں ہے:

وأما إذا تزوجها على خدمته سنة، أو تعليم القرآن – فمذهبهما وجوب مهر المثل ………… ولأن استحقاق الزوجة خدمة الزوج قلب الموضوع ; لأن توقير الزوج واجب عليها، وفي استخدامه إهانته.

بنایہ (5/ 160)میں ہے:

(ولأن خدمة الزوج الحر لا يجوز استحقاقها بعقد النكاح لما فيه) ش: أي لما في استحقاق خدمة الزوج الحر م: (من قلب الموضوع) ش: لأن موضوع النكاح أن يكون الزوج مالكا، قال الله تعالى: {الرجال قوامون على النساء} [النساء: 34] (النساء: الآية 34) .

والمراد بالقوامة المالكية، ومقتضى النكاح أن تكون المرأة خادمة، والزوج مخدوما لقوله عليه السلام: «النكاح رق» ، وفي جعله خدمته مهرا كان الرجل خادما، والمرأة مخدومة، وهذا خلاف موضوع النكاح بلا خلاف

شامی (3/ 106)میں ہے:

(و) في (خدمة زوج حر) سنة (للإمهار) لحرة أو أمة لأن فيه قلب الموضوع»

(قوله لأن فيه قلب الموضوع) لأن موضوع الزوجية أن تكون هي خادمة لا بالعكس فإنه حرام لما فيه من الإهانة والإذلال كما يأتي……………………فليس كل خدمة لا تجوز، وإنما يمتنع لو كانت الخدمة للترذيل.

جواہر الفقہ (1/552) میں ہے :

خلاصہ کلام : روایات حدیث اور آثار صحابہ و تابعین اور اقوال ائمہ و فقہاء ، جن کی تفصیل آپ اوپر پڑھ چکے ہیں ، ان سے مسئلہ تقبیل کے متعلق مندرجہ ذیل احکام حاصل ہوئے :

1۔تقبیل و معانقہ اگر شہوت کے ساتھ ہو، وہ با تفاق امت اپنی بیوی یا زرخرید کنیز کے علاوہ کسی کے ساتھ جائز نہیں ۔ اسی طرح جب اپنے نفس میں یا دوسری جانب میں شہوت پیدا ہو جانے کا خطرہ ہو ، اس کا بھی یہی حکم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved