- فتوی نمبر: 36-363
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے ترکہ میں ایک مکان تھا جس کی مالیت ایک کروڑ پچپن لاکھ روپے ہے ، مرحوم کے والد مرحوم سے پہلے فوت ہوگئے تھے، مرحوم کے ورثاء میں والدہ، بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرحوم کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکہ کے 192 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے 24 حصے (12.5فیصد) مرحوم کی بیوی کو، 32 حصے (16.666 فیصد ) مرحوم کی والدہ کو، 34 حصے (17.708 فیصد فی کس) مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 17 حصے (8.854 فیصد فی کس) مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
اس حساب سے مرحوم کی کل رقم (ایک کروڑ پچپن لاکھ روپے ) میں سے مرحوم کی بیوی کو19,37,500 روپے ، مرحوم کی والدہ کو 25,83,333روپے ، مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 27,44,792روپے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 13,72,396روپے ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×8=192
| بیوی | والدہ | 3 بیٹے | 2 بیٹیاں |
| ثمن | سدس | عصبہ | |
| 3×8 | 4×8 | 17×8 | |
| 24 | 32 | 136 | |
| 24 | 32 | 34+34+34 | 17+17 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved