• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“آئندہ ایسے دھوکہ دیا تو تمہیں تین طلاقیں” کہنے کا حکم اور معلق طلاق سے بچنے کا طریقہ

استفتاء

میرے موبائل اکاؤنٹ میں کچھ پیسے تھے۔ موبائل میری اہلیہ کا ہے البتہ اکاؤنٹ میرا ہے جن میں سے کچھ پیسے میری اہلیہ نے میری اجازت کے بغیر اپنی والدہ کو بھیج دیے جس کی  وجہ سے ہمارے درمیان جھگڑا ہوا اور میں نے اہلیہ سے کہا کہ “یہ دھوکہ ہے آئندہ ایسا مت کرنا “جس پر اس نے کہا کہ میں تو ایسا کروں گی ۔ تو میں نے اسے کہا کہ” تم نے آئندہ ایسے دھوکہ دیا تو تمہیں تین طلاقیں  ”

نوٹ : دھوکہ دینے سے میری مراد تھی کہ” پیسوں کے معاملے میں دھوکہ دیا تو تمہیں تین طلاقیں  ” اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ تعلیق کسی طرح ختم ہو سکتی ہے یا نہیں  ؟تاکہ آئندہ اگر وہ میری اجازت کے بغیر ایسا کام کرے تو طلاق واقع نہ ہو ۔

بیوی کا بیان  :

انہوں نے یہی کہا تھا  کہ یہ دھوکہ  آئندہ نہ کرنا       !  میں نے کہا میں تو ایسا کروں گی ۔ جس پر انہوں نے یہ الفاظ کہہ دیے کہ ” آئندہ اگر  یہ دھوکہ دیا  تو تین طلاقیں ”  اس کے بعد ہم دونوں ہی پریشان ہوگئے ۔ اور پھر  انہوں نے  یہ بھی کہہ دیا  یہ سارے پیسے تمہارے ہیں  جیسے مرضی استعمال کرلو ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر شوہر  بیوی کو ہمیشہ کے لیے اپنے پیسے  استعمال کرنے کی اجازت دے دے تو آئندہ اگر    بیوی شوہر  سے پوچھے بغیر بھی  پیسے استعمال کرلے تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوگی ۔

توجیہ :   مذکورہ واقعہ  میں شوہر نے چونکہ طلاق کو  بیوی کے ایک خاص  فعل پر معلق کیا ہے   یعنی   بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال استعمال کرنا  جس کو شوہر نے دھوکہ دینے سے تعبیر کیا ہے   جس کے لیے شوہر کے بیان میں” آئندہ ایسے دھوکہ دیا ”  اور بیوی کے بیان میں  “آئندہ  اگر یہ دھوکہ دیا ” کا لفظ استعمال ہوا ہے لہٰذا جب شوہر ہمیشہ کے لیے   بیوی کو اپنا مال استعمال  کرنے کی اجازت دے دے  گا  تو کبھی بھی  ایسی نوبت  نہیں آئے گی کہ بیوی شوہر کے پیسے استعمال کرے اور اسے اجازت نہ ہو اس طرح جو  طلاق معلق کی گئی تھی وہ واقع نہیں ہوگی ۔

عالمگیری (1/420) میں  ہے:

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

ہندیہ (1/439) میں ہے:

أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو قال: إلا برضائي أو قال: إلا بعلمي أو قال لها: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار بغير إذني فهما سواء ‌لأن ‌كلمة ‌إلا وغير للاستثناء فالجواب فيهما أن بالإذن مرة لا تنتهي اليمين حتى لو أذن لها بالخروج مرة وخرجت ثم خرجت بعد ذلك بغير إذنه طلقت ………. والحيلة ‌في ‌عدم الحنث أن يقول: أذنت لك بالخروج في كل مرة أو يقول: أذنت لك كلما خرجت فحينئذ لا يحنث وكذا إذا قال: كلما شئت الخروج فقد أذنت لك أو أذنت لك بالخروج أبدا

مسائل بہشتی زیور (2/117) میں ہے :

مسئلہ:اگر اپنی بیوی سے کہا اگر تو فلانا کام کرے تو تجھ کو طلاق، اگر تو میرے پاس سے جائے تو تجھ کو طلاق ۔ اگر تو اس گھر میں جائے تو تجھ کو طلاق یا کسی اور بات کے ہونے پر طلاق دی تو جب وہ کام کرے گی تب طلاق پڑجائے گی اگر نہ کرے گی تو نہ پڑے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved