• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

افعال عمرہ شروع کرنےسے پہلے، یا بعد میں حلق سے پہلے بیوی سے جماع یا دواعی جماع کرنے کا حکم

استفتاء

اگر میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھا، افعال عمرہ ادا کرنے سے پہلے جماع کیا یا بوس و کنار کیا، یا لپٹے اگر انزال ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ اور اگر انزال نہ ہو تو پھر کیا حکم ہے؟ اگر حجامت کرانے سے پہلے مذکورہ افعال میں سے کوئی فعل کیا تو کیا حکم ہے؟ جبکہ حجامت

کے علاوہ باقی تمام افعال عمرہ ادا کر لیے ہوں۔ مذکورہ بالا صورت میں اگر جنایت آئے گی تو میاں بیوی دونوں پر آئے گی یا ایک پر؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ میاں بیوی نے عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد افعالِ عمرہ شروع کرنے سے پہلے یا افعال عمرہ شروع کرنے کے بعد لیکن طواف کے چار چکر لگانے سے پہلے جماع کر لیا تو عمرہ فاسد ہو جائے گا،  جس کی قضاء بھی کرنا پڑے گی اور ایک ایک بکری دونوں میاں بیوی کو بطور دم کے دینا پڑی گی۔ لیکن جو عمرہ فاسد ہوا ہے اس کے افعال بھی پورے کرنے ضروری ہیں، یعنی طواف سعی اور پھر حلق کرنا بھی ضروری ہے۔

في البدائع (2/ 481):

لكن عند وجود شرط كونه مفسداً و ذلك شيئان: أحدهما الجماع في الفرج و الثاني أن يكون قبل طواف كله أو أكثر و هو أربعة أشواط لأن ركنها الطواف فالجماع حصل قبل أداء الركن فيفسدها كما لو حصل قبل الوقوف بعرفة في الحج و إذا فسدت يمضي فيها و يقضيها و عليه شاة.

و في القاضي خان على هامش الهندية(1/ 288):

إذا جامع المحرم قبل الوقوف بعرفة فسد حجه و يلزمه الدم يجوز فيه الشاة، جامعها ناسياً أو عامداً عندنا … و كذا المعتمر إذا جامع قبل الطواف فسد إحرامه.

وفي مناسك ملا علي القاري (464):

(و هي) أي العمرة لا تخالف الحج إلا في أمور … و مجموعها أحد عشر … (السابع: لا يجب بدنة بإفسادها) … بل تجب شاة إذا وقع الجماع قبل الطواف كله أو أكثره … ثم إذا أفسد عمرته فعليه المضي في الفاسد و قضاؤها بإحرام جديد.

و في غنيه المناسك (242):

و لا فرق فيه بينهما إذا ارتكب المحظور ذاكراً أو ناسياً عالماً، جاهلاً، طائعاً أو مكرهاً، نائماً أو منتبهاً.

اور اگر جماع طواف کے چار چکر لگانے کے بعد اور حلق سے پہلے کیا ہو تو اس صورت میں عمرہ تو فاسد نہ ہو گا۔ البتہ بطور دم کے میاں بیوی پر ایک ایک بکری آئے گی۔

وفي البدائع (2/ 481):

فإن جامع … بعد الطواف و السعي قبل الحلق لا تفسد عمرته لأن الجماع حصل بعد أداء الركن و عليه دم لحصول الجماع في الإحرام.

وفي مناسك ملا علي القاري (464):

أما لو جامع بعد ما طاف أكثره قبل السعي أو بعده قبل الحلق لا تفسد عمرته و عليه شاة.

و في الفقه الإسلامي (3/ 2323):

و إن وطیء بعد ما طاف لها أربعة أشواط و قبل الحلق فعليه شاة و لا تفسد عمرته و لا يلزمها قضاؤها.

2۔ اور اگر میاں بیوی نے احرام باندھنے کے بعد شہوت کے ساتھ بوس و کنار کیا ہو یا شہوت کے ساتھ آپس میں لپٹے ہوں خواہ افعال عمرہ شروع کرنے سے پہلے ایسا کیا ہو یا افعال عمرہ شروع کرنے کے بعد اور حجامت سے پہلے ایسا کیا ہو نیز خواہ انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، ہر حال میں ایسا کرنے سے میاں بیوی میں سے ہر ایک پر بطور دم کے ایک ایک بکری آئے گی۔

في الفقه الإسلامي (3/ 2322):

قال الحنفية إن قبّل أو لمس بشهوة أنزل أو لم ينزل في الأصح فعليه دم لأن دواعي الجماع محرمة لأجل الإحرام مطلقاً.

و في القاضي خان على هامش الهندية (1/ 288):

و إن جامع المعتمر فيما دون الفرج و أنزل أو لم ينزل لا يفسد إحرامه و عليه شاة.

……………………… فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved