- فتوی نمبر: 36-315
- تاریخ: 05 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
1۔مفتی صاحب اگر کوئی آدمی اپنی بیوی بچوں کو مخاطب کرکے یوں کہے کہ “اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں آپ لوگوں کو مرغی کھلاؤں گا”یہ نذرمنعقد ہوگی یا نہیں؟ کیونکہ نذرکامصرف تووہ ہےجو زکوۃ کاہےاورزکوۃتواپنے اہل وعیال کو نہیں دے سکتے۔
2۔وعدے اور نذر میں ہم کیسے فرق کریں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ صورت میں نذر منعقد نہیں ہوگی۔
توجیہ: چونکہ بیوی بچے نذر کے مصرف نہیں ہیں اس لیے ان کو کھلانے کی نذر ماننا درست نہیں جیسے غنی عام حالات میں مصرف نہیں اس لیے اگر غنی پر صدقہ کی نذر مانی جائے تو یہ نذر بھی منعقد نہیں ہوتی یا جیسے مسجد وغیرہ مصرف نہیں اگر مسجد پر صدقہ کی نذر مانی جائے تو وہ بھی درست نہیں۔
2۔ نذر اور وعدے میں فرق یہ ہے کہ جب الفاظ مطلق ہوں (معلق نہ ہوں) اور صیغہ بھی لزوم کا نہ ہو تو وعدہ ہوگا یا الفاظ معلق ہوں اور نیت وعدے کی ہو تو پھر بھی وعدہ ہوگا اور اگر صیغہ لزوم کا ہو یا الفاظ معلق ہوں اور وعدے کی نیت نہ ہو تو نذر ہوگی۔
شامی (2/343) میں ہے:
باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر (هو فقير ……)
وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة
لا يصرف (الزكاة) إلى (من بينهما ولاد) (أو) بينهما (زوجية) …… وكذا كل صدقة واجبة كالفطرة والنذر والكفارات
شامی (3/738) میں ہے:
نذر التصدق على الأغنياء لم يصح ما لم ينو أبناء السبيل
وفي الشامية: قلت: وينبغي أن يصح إذا نوى أبناء السبيل لأنهم محل الزكاة اهـ
تبیین الحقائق (1/301) میں ہے:
قال – رحمه الله – (وأصله وإن علا وفرعه وإن سفل وزوجته وزوجها وعبده ومكاتبه ومدبره وأم ولده) أي لا يجوز الدفع إلى أصوله وهم الأبوان والأجداد والجدات من قبل الأب والأم وإن علوا ولا إلى فروعه وهم الأولاد وأولاد الأولاد وإن سفلوا إلى آخر ما ذكر لأن بين الفروع والأصول اتصالا في المنافع لوجود الاشتراك في الانتفاع بينهم عادة وكذا بين الزوجين ولهذا لو شهد له أحد منهم لم تقبل شهادته لكونها شهادة لنفسه من وجه فلم يتحقق التمليك على الكمال وبالدفع إلى عبده ومدبره وأم ولده لم يخرج عن ملكه فلم يوجد التمليك وهو ركن فيها وله حق في كسب مكاتبه فلم يتم التمليك وكذا جميع الصدقات كالكفارات وصدقة الفطر والنذور لا يجوز دفعها لهؤلاء
البنایہ (3/ 467) میں ہے:
«[دفع الزكاة للآباء والأبناء والزوجة]
م: (قال) ش: أي القدوري رحمه الله: م: (ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا، ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل) ش: وكذا لا يدفع إليهم عشره وسائر واجباته، بخلاف الركاز إذا وجده له أن يعطي خمسه من هو من أهل الحاجة منهم، ولو بقي شيء لولده لم يعطه، وكذا المخلوق من مائه بالزنا م: (لأن منافع الأملاك بينهم متصلة) ش: حتى ينتفع أحدهما بمال الآخر ولهذا لم تقبل شهادة البعض للبعض، فكان الصرف إليهم صرفا إلى نفسه من وجه م: (فلا يتحقق التمليك على الكمال) ش.
فالشرط التمليك الكامل م: (ولا إلى امرأته) ش: أي ولا يدفع المزكي زكاته إلى امرأته»
معراج الدرایہ (2/558) میں ہے:
قَالَ: (وَلَا يَدْفَعُ المُزَكِّي زَكَاتَهُ إِلَى أَبِيهِ وَجَدِّهِ وَإِنْ عَلَا، وَلَا إِلَى وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ وَإِنْ سَفَلَ).
قوله: (وَلَا يَدْفَعُ الْمُزَكِّي زَكَاتَهُ … ) إلى آخره وكذا لا يدفع عشره وسائر واجباته إلى هؤلاء، ولا إلى مماليكه وزوجته،
المحیط البرہانی (6/ 117) میں ہے:
في «فتاوى أبي الليث» : رجل ذهب له شيء فقال: إن وجدته فلله علي أن أوقف أرضي على أبناء السبيل، فوجدها يجب عليه أن يوقف؛ لأن هذا نذر والوفاء بالنذر
واجب، فإن وقف فهذا على ثلاثة أوجه، إما إن وقف على الأجانب أو على القرابة التي يجوز إعطاء الزكاة اليها أو على القرابة التي لا يجوز إعطاء الزكاة إليها، في الوجه الأول والثاني، جاز وفي الوجه الثالث، لا؛ لأن صرف الصدقة الواجبة إلى من لا يجوز إعطاء الزكاة إليه لا يجوز، فلو وقف على القرابة التي لا يجوز إعطاء الزكاة إليها فالوقف صحيح، وأما النذر باق؛ لأنه لم يؤد المنذور
امداد الاحکام(3/30،29) میں ہے:
سوال:ایک مسئلہ میں چند آدمیوں کے درمیان تنازع ہو کر حضور کو ثالث مانا لہذا جواب کو مدلل تحریر فرما کر ممنون فرمائیں اور مہربانی فرما کر حوالہ کتب بھی تحریر فرمائیں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنے مرض میں اس طرح منت مانی کہ اگر خدا تعالی شفا دے تو فلاں مسجد میں مبلغ 3 روپیہ للہ دوں گااور بعد اس کے وہ شخص شفاء پایا اب یہ منت ہوئی یا نہیں؟ اور ادا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟ اور اس روپیہ کو مسجد کی بناء میں خرچ کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:مسجد میں روپیہ دینے سے اگر مسجد کی تملیک بطور ہبہ کے مراد ہے تو یہ نذر صحیح نہیں ۔گو احوط ایفاء نذر ہےاور اگر یہ مراد ہے کہ ان روپوں کی کوئی چیز خرید کر مسجد کے لئے وقف کی جائے جیسے لوٹا اور بوریا وغیرہ تو اس صورت میں نذر صحیح ہے اور اس کا پورا کرنا بعد وجود شرط کے واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved