- فتوی نمبر: 35-258
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
ایک شخص اپنی غیر مدخول بہا زوجہ کو طلاق دینے کے لیے وکیل کے پاس گیا اور اس کو کہا کہ”طلاق کے کاغذات تیار کردو ” اس نے طلاق کے کاغذات تیار کردیئے، طلاقنامے میں یہ الفاظ لکھے کہ “زوجہ کو تحریری طلاق ثلاثہ(طلاق، طلاق، طلاق) دے کر اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں” ایسی صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس خاتون کو ایک طلاق ہوئی ہے یا تین ؟
شوہر حلفیہ بیان دیتا ہے اور وکیل بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بوقت گفتگو عددِ طلاق کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ کاغذات تیار کرنے کا کہا تھا۔
شوہر کا حلفیہ بیان:
میں مسمی زید ولد خالد سکنہ *****حلفاً بیان کرتا ہوں کہ جب میں طلاقنامہ لکھوانے گیا تو میں نے طلاق لکھوانے والے سے کہا کہ” میں نے اپنی بیوی کو طلاق دینی ہے نوٹس لکھ دو” میرے ذہن میں ایک یا دو یا تین طلاقوں کی مخصوص نیت نہیں تھی اور طلاق لکھنے والا بھی گواہی حلفاً دیتا ہے کہ اس نے تین طلاقیں لکھی ہیں باری باری نہ کہ یکبارگی کے ساتھ اور طلاق نامہ پر بھی تین طلاقیں الگ الگ مرقوم ہیں۔
طلاقنامے کی عبارت:
منکہ مسمیٰ زید ولد خالد ساکن***** کا ہوں۔ جوکہ میری شادی تین سال قبل ہمراہ فاطمہ دختر بکر ….. ہوئی تھی یہ کہ مسماۃ مذکورہ اور میرے مابین اختلاف پیدا ہوگئے ……… چنانچہ من مقر بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلا اکراہ وجبر اغیار برضامندی مسماۃ فاطمہ (اہلیہ) کو تحریری طلاق ثلاثہ (طلاق، طلاق، طلاق) دے کر اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں ……….. الخ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر دستخط کرتے وقت شوہر کو بتایا گیا تھا کہ اس طلاقنامے میں یہ جملہ لکھا ہے کہ ” مسماۃ فاطمہ (اہلیہ) کو تحریری طلاق ثلاثہ (طلاق، طلاق، طلاق) دے کر اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں ” یا اس نے دستخط کرنے سے پہلے طلاقنامے کو پڑھا تھا یا اسے پڑھ کر سنایا گیا تھا (الغرض کسی بھی طریقے سے شوہر کے علم میں یہ آگیا تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں) تو تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے رجوع یا صلح کی گنجائش ختم ہوچکی ہے اور اگر دستخط کرتے وقت شوہر کو معلوم نہیں تھا کہ طلاقنامے میں مذکورہ جملہ لکھا ہوا ہے تو مذکورہ صورت میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی ہے کیونکہ بیوی غیر مدخولہ ہے ۔
شامی (4/496) میں ہے:
(قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) …….. (ثلاثا) …… وقعن ……. (وإن فرق) …. (بانت بالأولى) ولذا (ولم تقع الثانية)
بدائع الصنائع(3/187) میں ہے:
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد
ہندیہ (2/411) میں ہے:
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير
بدائع الصنائع (3/ 187) میں ہے :
«وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة» .
مداد الفتاویٰ جدید مطول (5/183) میں ہے:
”سوال: ایک شخص نے دوسرے سے کہا ایک طلاق لکھدو اس نے بجائے صریح کے کنایہ لکھدیا، آمر نے بغیر پڑھے یا پڑھائے دستخط کردیئے تو کیا حکم ہے اور دستخط کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟ ۔۔۔ ۔۔۔الخ
جواب: اگر مضمون کی اطلاع پر دستخط کئے ہیں تو معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں، قواعد سے یہی حکم معلوم ہوتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
