- فتوی نمبر: 36-260
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
دوکاندار کا عطر، اسپرے، میک اَپ اور اسی نوعیت کی دیگر اشیاء گاہکوں کو آزمانے اور استعمال کرکے دیکھنے کے لیے دینا، پھر اگر وہ گاہک اسے خریدنے سے انکار کر دے تو اس میں سے کچھ مقدار استعمال ہو جانے کے باوجود اسے دوسرے گاہک کو اصل قیمت پر فروخت کرنا، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
تنقیح از مجیب: اس بارے میں مختلف دکانداروں سے معلومات لی گئی ہیں جن کے مطابق اگر کمی بہت معمولی مقدار میں ہو مثلا پرفیوم کی بڑی بوتل میں 4،5 سپرے تو عرفا اس کا تحمل کیا جاتا ہے اور گاہک اس کو معیوب نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ خود بھی عام طور پر کئی چیزیں چیک کر کے ان میں سے ایک سیلیکٹ کرتا ہے ،البتہ اگر قابل شمار (متعد بہ)کمی ہو تو اسے عیب سمجھا جاتا ہے اور اس صورت میں گاہک کو نہ بتایا جائے اور بعد میں پتہ چلے تو وہ اسے معیوب سمجھتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر کمی معمولی درجہ کی ہو تو گاہک کو بتائے بغیر اصل قیمت پر فروخت کرنا جائز ہے اور اگر کمی زیادہ ہو تو بغیر بتائے بیچنا جائز نہیں کیونکہ عرفا اس کمی کو عیب شمار کیا جاتا ہے نیز بتانے کی صورت میں رضامندی سے جس قیمت پر اتفاق ہوجائے بیچنا جائز ہے ۔
مجلۃ الاحکام (المادة :338) میں ہے:
العيب هو ما ينقص ثمن المبيع عند التجار وأرباب الخبرة
شامی (5/ 47) میں ہے:
لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved