- فتوی نمبر: 35-287
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > نام رکھنے سے متعلق
استفتاء
1۔ اللہ محمد نام رکھنا کیسا ہے؟
2۔محمداللہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
3۔محمود اللہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
تنقیح: سائل نے بتایا ہے کہ “محمدُ اللہ” اور ” محمود ُ اللہ ” یہ دونوں نام اُن کے ہاں دال پر پیش کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں اور وہ پیش کے ساتھ ہی ان ناموں کا حکم جاننا چاہتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اللہ محمد نام رکھنا جائز نہیں ہے ۔
توجیہ: مذکورہ نام دو مستقل ناموں لفظ”اللہ” اور لفظ “محمد”کا مجموعہ ہے۔اور لفظ “اللہ” باری تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اس کا استعمال مخلوق کے لئے جائز نہیں ہے لہذا مخلوق کے لئے ایسا نام رکھنا جائز نہیں ۔
2,3۔محمد اللہ اور محمود اللہ نام رکھنے جائز ہیں ۔
توجیہ: عام طور پر ان دونوں ناموں کو “دال” پر پیش کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور اس صورت میں لفظ “محمد” اور ” محمود” لفظ “اللہ” کی طرف مضاف ہیں اور ان کا معنی “اللہ کا محمد” اور ” اللہ کا محمود ” ہے چونکہ مذکورہ ناموں کے معنی میں کوئی خرابی نہیں پائی جا رہی لہذا مذکورہ نام رکھنے جائز ہیں ۔
الأسنى فی شرح أسماء الحسنى للقرطبی ( ص :276) میں ہے:
“الله”… ولم يتسم أحد بهذا الاسم الشريف وهو مما اختص به الجيل …………انه اسم يختص بالخالق رب العالمين وأنه ليس باسم لمخلوق…………يحتمل أن نعتبر هذا الاسم بصفة الأعظم لخمسة معان أحدها:الإختصاص به ومنع الغير أن يشارك في التسمية به…. …..انه في معنى الاسم العلم يدل على الذات وما وجب لها مطلقا فلما لم يكن له شبيه ولا نظير منع الغير من التسمي به.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
