• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم

استفتاء

بعد السلام عرض ہے کہ ہمارے یہاں کئی سالوں سے نمازِ جنازہ سڑک پر ادا کی جاتی رہی ہے، کیونکہ جناز  گاہ مسجد سے تقریباً ساڑھے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں جگہ بھی تنگ ہے۔ نیز جناز  گاہ دور ہونے کی وجہ سے عموماً وہاں زیادہ لوگوں کا پہنچنا دشوار ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے نمازِ جنازہ میں مناسب مجمع جمع نہیں ہوپاتا، جبکہ سڑک پر نماز ادا کرنے کی صورت میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوسکتی ہے۔اب موجودہ حالات میں حکومت کی طرف سے سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات پر اجتماعات وغیرہ کے متعلق مختلف قسم کے بیانات اور پابندیوں کی باتیں سامنے آرہی ہیں، جس کی وجہ سے اندیشہ ہے کہ آئندہ نمازِ جنازہ کے سلسلے میں اعتراض یا دشواری پیش آسکتی ہے۔لہٰذا دریافت طلب امور یہ ہیں:

1۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہوجائے کہ سڑک پر نمازِ جنازہ پڑھنے میں دشواری یا حکومتی اعتراض ہو، تو کیا فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ میت اور کچھ لوگ مسجد کے باہر ہوں اور باقی لوگ مسجد کے اندر رہ کر نمازِ جنازہ ادا کریں؟

نیز اس صورت میں جو لوگ مسجد کے اندر نمازِ جنازہ ادا کریں گے، کیا ان کی نماز مکروہ ہوگی یا نہیں؟ خصوصاً جبکہ اصل جنازہ گاہ دور ہے، وہاں جگہ کی تنگی بھی پائی جاتی ہے، اور مناسب مجمع بھی جمع نہیں ہوپاتا، جبکہ یہ صورت مجبوری و ضرورت کے تحت اختیار کی جائے گی۔

2۔ہمارے یہاں بعض دیگر  مساجد کے باہر روڈ یا گلی میں نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے اس پر پابندی عائد کردی جائے کہ گلی یا روڈ پر نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جاسکتی، اور دوسری مناسب جگہ بھی موجود نہ ہو، تو کیا ایسی مجبوری کی حالت میں میت کو مسجد کے اندر رکھ کر نمازِ جنازہ ادا کرنا جائز ہوگا؟ اور اس صورت میں کراہت کا کیا حکم ہوگا؟برائے کرم قرآن و سنت اور عباراتِ فقہاءِ کرام کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کی چار صورتیں ہیں :

۱۔جنازہ، امام، اور مقتدی سب مسجد کے اندر ہوں ۔

۲۔صرف میت مسجد کے اندر ہو امام اور مقتدی سب مسجد سے باہر ہوں ۔

۳۔جنازہ اور امام مسجد سے باہر ہوں اور تمام مقتدی مسجد کے اندر ہوں ۔

۴۔جنازہ، امام اور ایک صف مسجد سے باہر ہو اور باقی مسجد کے اندر ہوں ۔

ان میں سے پہلی دو صورتیں بالاتفاق مکروہ تحریمی اور ناجائز ہیں جبکہ آخری دو صورتوں کے بارے میں اختلاف ہے بعض حضرات کے نزدیک ان صورتوں میں نماز جنازہ بلا کراہت جائز ہے جبکہ صحیح قول کے مطابق ان صورتوں میں بھی نماز جنازہ مکروہ اور ناجائز ہے لیکن اگر جنازگاہ دور ہو یا جگہ کی تنگی ہو اور سڑک پر ادا کرنے میں   کوئی انتظامی یا قانونی مجبوری ہو تو ایسے مواقع پر آخری دو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں لہٰذا :

2،1۔ مذکورہ صورتوں میں سڑک پر نماز جنازہ ادا کرنے میں اگر واقعتا کوئی انتظامی یا قانونی مجبوری ہو مثلا حکومت سڑک پر نماز جنازہ ادا کرنے پر پابندی لگا دے اور قریب میں کوئی متبادل جگہ بھی نہ ہو جہاں نماز جنازہ پڑھی جا سکے تو مجبوری کی  وجہ سے  مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کی صورتوں میں سے آخری  دو صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں اور عدم کراہت والے قول کے مطابق مسجد میں کھڑے لوگوں کی نماز بلاکراہت جائز ہوگی۔

شامی (3/148) میں ہے:

(‌وكرهت ‌تحريما) وقيل (تنزيها في مسجد جماعة هو) أي الميت (فيه) وحده أو مع القوم. (واختلف في الخارجة) عن المسجد وحده أو مع بعض القوم (والمختار الكراهة) مطلقا خلاصة، بناء على أن المسجد إنما بني للمكتوبة، وتوابعها كنافلة وذكر وتدريس علم، وهو الموافق لإطلاق حديث أبي داود «من صلى على ميت في المسجد فلا صلاة له»

تتمة: انما تكره فى المسجد بلا عذر فان كان فلا.

امداد الفتاویٰ جدید (3/462) میں ہے:

سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین رحمہم اللہ تعالیٰ امور ذیل میں :  (۱)  نمازجنازہ ایسی صورت میں کہ جنازہ اور امام ومقتدی سب لوگ مسجد میں ہوں تو کیسی ہے؟

جواب: مکروہ ہے۔

امداد الاحکام (1/460) میں ہے:

الحواب: …………….  احناف کے علماء میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر بشرطیکہ مقتدی و امام سب باہر ہوں نماز پڑھنے میں بھی اختلاف ہے، بعض نے اس کو جائز کہا ہے، شرح مراقی الفلاح میں ہے:  فلو کان  الميت موضوعاً في المسجد والناس خارجه لا تكره وبالعكس تكره كما فی الجوهرة قال الطحطاوي: وفيه ان الميت يشغل المسجد بقدر جنازته.

 مگر علماء احناف کے اقوال مختلف ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مذہب میں بھی اختلاف ہے۔بلکہ جب کسی مسئلہ میں اقوال مختلف ہوتے ہیں تو مذہب ان میں سے ایک ہوتا ہے، اور مذہب  وہ ہے جس کو اہل متون نے اختیار کیا ہو، پس مذہب حنفی میں راجح اور صحیح یہ  ہے کہ  مسجدجماعت میں نمازجنازہ بہر حال مکروہ ہے، خواہ جنازہ تنہا مسجد کے اندر ہو اور مقتدی اور امام باہر یامقتدی وامام مسجد کے اندر ہو اور جنازہ باہر یا امام اور جنازہ تنہا یا مع بعض قوم کے باہرہو اور باقی مقتدی اندر، جیسا کہ درمختار اور شامی(1/924) سے ظاہر ہے۔

احسن الفتاویٰ (4/193) میں ہے:

سوال:  مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟ اگر جائز نہیں تو حرمین شریفین میں کیوں پڑھتے ہیں ؟

جواب : بلا عذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے خواہ جنازہ مسجد کے اندر ہو یا باہر البتہ اگر نماز کے لیے کوئی دوسری جگہ نہ ہو تو  عذر کی وجہ سے مسجد میں کراہت نہیں۔

فتاویٰ عثمانی (1/565) میں ہے:

سوال : آدم جی نگر کی مکہ مسجد کو تعمیر ہوئے تقریبا 15 سال ہو گئے تب سے جنازے کی نماز مسجد کے میدان میں ہوا کرتی تھی امام صاحب کی امامت کے آخری ایام میں محراب کے بیچ میں کھڑکی توڑ کر دروازہ بنا دیا گیا اور محراب کے باہر چار فٹ اونچا چبوترا بنایا گیا اب چبوترے پر نماز جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور محراب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے نئے امام صاحب نے جنازے کی نماز کا یہ طریقہ بند کرا دیا ہے اور پہلے کی طرح نماز کھلے میدان میں ہونے لگی ہے مولانا مفتی اسماعیل صاحب نے گجراتی کتاب میں جو فتوی کی کتاب ہے لکھا ہے کہ جنازے کی نماز کسی حالت میں مسجد میں پڑھنا مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے اب کون سا طریقہ درست تھا بہشتی گوہر میں مسئلہ کیا لکھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حرمین میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے آپ واضح فرمائیں کیا حکم ہے؟

جواب: میت کو محراب سے باہر رکھ کر اگر نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھی جائے تو راجح قول کے مطابق یہ صورت بھی مکروہ ہے، البتہ آس پاس نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کوئی اور جگہ نہ ہو تو مجبوراً فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن چونکہ صورت مسئولہ میں مسجد کے ساتھ مسجد ہی کا کھلا میدان  موجود ہے۔ اس لیے جس مسجد کے بارے میں سوال ہے وہاں مسجد کے اندر بلا عذر نماز  پڑھنا مکروہ ہے۔

لما في الدر المختار: و اختلف في الخارجة عن المسجد وحده أو مع بعض القوم و المختار الكراهة مطلقاً. و هو الموافق لإطلاق حديث أبي داؤد ” من صلى على ميت في المسجد فلا صلاة له”.و قال الشامي رحمه الله إنما يكره في المسجد بلا عذر فإن كان فلا.

بہشتی گوہر ، امداد الفتاویٰ وغیرہ سب میں مسئلہ اسی طرح ہے۔ اور جب مسجد کے ساتھ کھلی جگہ موجود ہے تو مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی کی بحث میں نہیں پڑنا چاہيے، باہر ہی نماز پڑھنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved