• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

عورت کا کسی مفتی صاحب یا مولانا صاحب کو سلام کرنا

استفتاء

بہشتی زیور میں لکھا ہےکہ

"غیر محرم مرد کے لیے کسی جوان یا درمیانی عمر کی عورت کو سلام کرنا ممنوع ہے اسی طرح خطوں میں لکھ کر بھیجنا یا کسی کے ذریعے سے کہلوا کر بھیجنا اور اسی طرح نامحرم عورتوں کے لیے مردوں کو سلام کرنا بھی ممنوع ہے اس لیے کہ ان صورتوں میں سخت فتنہ کا اندیشہ ہے اورفتنہ کا سبب بھی فتنہ ہوتا ہے ہاں اگر کسی بوڑھی عورت کو یا بوڑھے مرد کو سلام کیا جائے تو مضائقہ نہیں مگر غیر محرم سے ایسے تعلقات رکھنا ایسی حالت میں بھی بہتر نہیں۔ہاں جہاں کوئی خصوصیت اس کی مقتضی ہو اور احتمال فتنہ کا  نہ ہو تو وہ اور بات ہے”

اب سوال یہ ہے کہ:کیا عورتیں کسی مفتی صاحب یا مولاناصاحب کو سلام کرتی ہیں تو گنہگار ہوتی ہیں یا پھر نیک مردوں کو سلام کرنا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عورتیں کسی مفتی صاحب یا مولانا صاحب یا کسی نیک مرد کو سلام کرتی ہیں تو پھر بھی وہی تفصیل ہے جو بہشتی زیور میں مذکور ہے یعنی جہاں کوئی خصوصیت سلام کا تقاضا کرتی ہو اور فتنے کا احتمال نہ ہو تو گناہ نہیں مثلا دینی مسئلہ پوچھنا ہو اور فتنے کا خوف نہ ہو یا عورت کا محرم بھی ساتھ ہو تو عورت کے لیے(نامحرم) مفتی صاحب یا مولانا صاحب کو سلام کرنے کی گنجائش ہے۔

فتح الباري لابن حجر (11/ 33)میں ہے:

(قوله باب تسليم الرجال على النساء والنساء على الرجال)

أشار بهذه الترجمة إلى رد ما أخرجه عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير بلغني أنه يكره أن يسلم الرجال على النساء والنساء على الرجال وهو مقطوع أو معضل والمراد بجوازه أن يكون عند أمن الفتنة وذكر في الباب حديثين يؤخذ الجواز منهما وورد فيه حديث ليس على شرطه وهو حديث أسماء بنت يزيد مر علينا النبي صلى الله عليه وسلم في نسوة فسلم علينا حسنه الترمذي وليس على شرط البخاري فاكتفى بما هو على شرطه وله شاهد من حديث جابر عند أحمد وقال الحليمي كان النبي صلى الله عليه وسلم للعصمة مأمونا من الفتنة فمن وثق من نفسه بالسلامة فليسلم وإلا فالصمت أسلم وأخرج أبو نعيم في عمل يوم وليلة من حديث واثلة مرفوعا يسلم الرجال على النساء ولا يسلم النساء على الرجال وسنده واه ومن حديث عمرو بن حريث مثله موقوفا عليه وسنده جيد وثبت في مسلم حديث أم هانئ أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يغتسل فسلمت عليه الحديث الأول.

عمدة القاری  شرح صحيح البخاری (22/ 243)میں ہے:

(باب ‌تسليم ‌الرجال على النساء والنساء على الرجال)

أي: هذا باب في بيان جواز ‌تسليم ‌الرجال … إلى آخره. ولكن بشرط أمن الفتنة، وأشار بهذه الترجمة إلى رد ما أخرجه عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير: بلغني أنه يكره أن يسلم الرجال على النساء، والنساء على الرجال، وهو مقطوع أو معضل.

بذل المجہود (رقم الحدیث:5205)میں ہے:

(………أخبرته أسماء بنت يزيد) قالت: (‌مر ‌علينا ‌النبي – صلى الله عليه وسلم – في نسوة) حال من ضمير علينا (فسلم علينا).قال ابن الملك: وهو مختص بالنبي – صلى الله عليه وسلم – لأمنه من الوقوع في الفتنة، وأما غيره فيكره له أن يسلم على المرأة الأجنبية إلا أن تكون عجوزا بعيدة من مظنة الفتنة، قيل: وكثير من العلماء لم يكرهوا تسليم كل منهما على الآخر، وقال الحليمي: كان – صلى الله عليه وسلم – مأمونا عن الفتنة، فمن وثق من نفسه بالسلامة فليسلم وإلا فالصمت أسلم.

فتاوی محمودیہ(24/326) میں ہے:

سوال:اپنے خاندان کی نا محرم عورتوں یا مردوں میں سےایک دوسرے کو سلام کیا جاسکتا ہے؟

جواب :شرعا کہلایا جا سکتا ہے،اگر فتنہ نہ ہو۔

احسن الفتاوی(8/41)میں ہے:

سوال:عورت کے لیے غیرمحرم  مرد کو سلام کرنا یا اس کے سلام کا جواب دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:اجنبی مرد اور عورت کے لیے ایک دوسرے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز نہیں اگر کسی نے سلام کیا تو دوسرا دل میں جواب دے آواز سے نہ دے البتہ اگر کسی ضرورت سے بات کرنے کی نوبت آئے تو سلام اور رد سلام کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved