• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

باپ کی بیوی کی پڑپوتی سے نکاح

استفتاء

میرے والد نے ایک عورت سے شادی کی اور اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دے دی۔ اس کے بعد میرے والد نے دوسری شادی کی۔اس طلاق شدہ عورت نے  زید  نامی بندے سے شادی کرلی اور اس  سے   ایک لڑکی (زینب) پیدا ہوئی۔زینب جوان  ہوئی  تو اس نے  خالد سے  شادی کی ۔اس طرح زینب کا  ایک بیٹا ( عمر ) پیدا ہوا اب عمر کی بیٹی کے ساتھ  کیامیں نکاح کرسکتا ہوں؟اور ہماری منگنی  کو ایک سال ہو چکا  ہے  ۔اب مجھے کسی نے بتایا کہ میرے والد   نے عمر کی نانی سے شادی کی تھی۔ کیا  عمر کی بیٹی سے میرا نکاح ہو سکتا ہے؟حالانکہ میرے والد سے  عمر  کی نانی کی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  عمر  کی بیٹی سے آپ کا نکاح کرنا درست ہے۔

توجیہ مذکورہ صورت میں  عمر  کی بیٹی اورآپ  کے درمیان ایسی  قرابت (رشتہ داری) نہیں ہے کہ جس سے آپ دونوں کا آپس میں  نکاح نہ ہو سکے کیونکہ یہ لڑکی  آپ  کے والد کی طلاق  شدہ بیوی کی پڑپوتی ہے اور یہ پڑپوتی بھی دوسرے شوہر سے ہے لہذا  آپ  دونوں کا  ایک دوسرے  سے نکاح ہوسکتا ہے۔

شامی (3/31) میں ہے:

(‌وزوجة ‌أصله ‌وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا. وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال

احسن الفتاویٰ (5/74) میں ہے:

 سوال: زید نے شادی کی اس سے ایک لڑکا عمر پیدا ہوا پھر زید نے پہلی بیوی کے فوت ہونے پر دوسری عورت  سے شادی کر لی اور اس کے بعد زید فوت ہو گیا اور اس کی دوسری بیوی نے دوسرا عقد کر لیا بکر سے اس بکر سے اس عورت کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو زید کی پہلی بیوی سے پیدا شدہ لڑکے (عمر) کا لڑکا زید کی دوسری بیوی کی اس لڑکی سے جو بکر سے پیدا ہوئی ہیں نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

 جواب : عمر کے لڑکے کا نکاح اس کے دادا (زید )کی دوسری بیوی کی لڑکی (جو بکر سے پیدا ہوئی ہے) سےجائز  ہے۔

قال في العلائية وزوجة اصله وفرعه مطلقا ولو بعيد دخل بها أو لا وأما بنت زوجة ابيه او ابنه فحلال(رد المحتار )  قلت لما حلت بنت زوجة الاب فبنت زوجة الجد بالاولى. فقط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved