- فتوی نمبر: 35-109
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
میرے بہنوئی نے میری بہن کو وائس میسج پر تین دفعہ طلاق دی ہے۔ وائس میسج کے الفاظ یہ ہیں کہ” میں تیری بہن زینب کو طلاق دیتا ہوں، میں تیری بہن زینب کو طلاق دیتا ہوں، میں تیری بہن زینب کو پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں، یہ میسج اپنی بہن کو سنا دو” یہ میسج 11 دسمبر کو بھیجا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس میسج سے طلاق ہو گئی ہے ؟ اگر کوئی گنجائش نکلتی ہے تو رہنمائی فرمائیں۔
بیوی کا بیان:
میں تقریبا ایک سال سے میکے میں ہوں۔ میرے شوہر مجھ پر تشدد کرتے تھے اور مارتے تھے۔ پہلے انہوں نے ایک طلاق کا نقلی نوٹس بھیجا پھر اس کے بعد ایک اور نقلی نوٹس بھیجا ۔ اور اب ایک اصلی نوٹس بھیجا ہے۔سب کی تصویریں ارسال کردی ہیں۔
شوہر کا بیان:
مذکورہ وائس میسج میں نے نہیں کیا البتہ طلاق کے نوٹس میں نے بھیجے ہیں۔ غیر دستخط شدہ نوٹس صرف ڈرانے کے واسطے بھیجا تھا، طلاق کی نیت نہیں تھی۔
طلاق کے غیر دستخط شدہ نوٹس کی عبارت:
میں زید بقائمی ہوش و ہواس خمسہ بغیر جبر و اکراہ کہ تحریر کرتا ہوں کہ مسماۃ زینب کو نوٹس طلاق اول دیتا ہوں۔(8مئی، 2025)
دستخط شدہ طلاق نامہ کی عبارت :
میں زید اپنی بیوی زینب کو طلاق کا نوٹس اول دیتا ہوں۔ اور مسماۃ مذکوریہ کو بذریعہ نوٹس ہذا ایک بار طلاق دیتا ہوں۔(9 دسمبر، 2025)۔
نوٹ: طلاق کے تین نوٹسوں میں سے پہلے والا اسٹام پیپر نہیں تھا اور نہ ہی اس پر شوہر کے دستخط تھے۔ دوسرے والا نوٹس اسٹام پیپر پر تھا اور اس پر شوہر کے دستخط بھی تھے لیکن وہ اصل نہیں تھا بلکہ فوٹو کاپی تھی پھر جو تیسری دفعہ نوٹس آیا وہ دوسرے والے نوٹس کی ہی اصل تھی۔
وضاحت مطلوب ہے : 8 مئی کو بھیجے گئے طلاق کے نوٹس سے لے کر 9 دسمبر تک بیوی کی ماہواری کی کیا ترتیب رہی ہے؟
جواب وضاحت: 8 مئی کو بھیجے گئے طلاق کے نوٹس کے وقت بیوی حاملہ تھی۔ 10 اگست کو اس کا بچہ پیدا ہوا جبکہ طلاق کا نوٹس بیوی نے 14 اگست کو وصول کیا۔ بچے کی ولادت کے بعد سے لے کر 12 دسمبر تک چار دفعہ ماہواری آچکی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو چکا ہے۔ لہذا میاں بیوی اگر اکٹھے رہنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔
نوٹ: دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔
تو جیہ: شوہر نے 8 مئی 2025 کو جو بغیر دستخط کے بیوی کو طلاق کا نوٹس ڈرانے کی نیت سے بھیجا تھا اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی تھی کیونکہ یہ تحریر کی مرسوم صورت ہے جس سے شوہر کی نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ نیز اگرچہ شوہر نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن چونکہ شوہر نے یہ تحریر بیوی کو بھیج دی تھی اور بیوی کو تحریر بھیجنا اپنی طرف منسوب کرنا ہوتا ہے لہٰذا دستخط نہ کرنے کے باوجود یہ تحریر شوہر کی طرف منسوب ہوگی ۔جب بیوی کو طلاق کا نوٹس اول بھیجا گیا تھا تو وہ حاملہ تھی اور حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہوتی ہے لہذا بچہ پیدا ہونے کی بعد نکاح ختم ہو گیا اور بعد میں بھیجے گئے طلاق کے نوٹس اور وائس میسج لغو ہوں گے۔
رد المحتار (3/ 251) میں ہے:
«والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه»
ہندیہ(1/ 378)میں ہے:
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب ……. وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو
ردالمحتار (4/442) میں ہے:
ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها، وقع إن أقر الزوج أنه كتابه
ردالمحتار (5/42) میں ہے:
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)
رد المحتار (3/ 230) میں ہے:
(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن.
بدائع الصنائع (3/283) میں ہے:
اما الطلاق الرجعي فالحكم الاصلي له هو نقصان العدد فاما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم اصلي له لازم حتي لايثبت للحال وانما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة فان طلقها ولم يراجعها بل تركها حتي انقضت عدتها بانت
الدر المختار (5/185) میں ہے:
“(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع
کفایت المفتی (6/258) میں ہے:
سوال: زید نے اپنی منکوحہ کو ایک شہر سے دوسرے شہر طلاق لکھ کر بھیج دی جس کو عرصہ بیس روز کا ہوا بعد ازاں اپنی زوجہ کو اپنی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے نیز یہ بھی کہتا ہے میرا طلاق دینے کا قطعی ارادہ نہ تھا…………… الخ
جواب: اگرخاوند اس امر کا اقرار کرے کہ لکھی ہوئی تحریر اسی نے لکھ کر یا لکھوا کر بھیجی ہے تو طلاق پڑ گئی اور جس قسم کی طلاق تحریر میں ہوگی اس قسم کی پڑی ہے اور اگر تین طلاقیں لکھی تھیں تو تین پڑیں اور رجوع جائز نہیں ………. الخ۔
امداد الفتاوی (5/179) میں ہے :
سوال: علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ تین بھائی ہیں مثلاً ایک زید ایک عمرو ایک احمد سب سے بڑا بھائیوں میں زید ہے زید نے عمر وکو مارا چھوٹے بھائی کو بہت بیجان کر دیا منجھلے بھائی نے تھانہ میں رپورٹ کرکے بڑے بھائی پر یعنی زید پر دعویٰ کیا بڑے بھائی نے عذر خواہی کرکے دونوں بھائیوں سے صلح کرکے اپنے گھر لایا منجھلے نے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو گے تو ہم تم سے صلح کریں گے ورنہ ہم تمہارے اوپر نالش کریں گے ورنہ قاضی کے پاس چل کر اپنی بیوی مسماۃ خاتون بی بی کو طلاق نامہ لکھو ہر چند زید کو طلاق نامہ دینا دشوار گزرا مگر نامبر دہ نے اپنے خوف کے مارے قاضی سے کہدیا کہ لکھو۔
قاضی صاحب نے کاغذ پر طلاق ثلاثہ لکھا طلاق لکھ کر عورت زید کے گھر میں اکھٹی رہی بلکہ عورت مذکورہ جو حاملہ تھی ہفت ماہ کے بعد لڑکی پیدا ہوئی اب زید کہتا ہے کہ میں نے زبان سے طلاق نہیں دی پس عرض ہے کہ یہ طلاق جائز ہوئی یا نہیں ؟
الجواب: صورتِ مذکورہ میں جب زید نے قاضی کو طلاق لکھنے کیلئے کہا اور انھوں نے لکھدی اور کاغذ سُنا دیا اور اس نے کچھ چون و چرانہ کی تو اب زید کی بیوی پر تین طلاق مغلظہ واقع ہوگئی۔
حاشیہ امداد الفتاوی میں ہے:
ہرچندکہ لکھو کا مفعول لفظوں میں مذکور نہیں ؛ لیکن اس درخواست کی منظوری میں اس نے یہ کہا ہے اس میں اس کی تصریح ہے کہ طلاق نامہ لکھو جواب اسی پر مبنی ہے اور جواب میں جو تین کا وقوع لکھا ہے یہ اس وقت ہے کہ اس لکھے ہوئے کووہ جائز رکھے یعنی یا تو اس پر دستخط کردے یا لیکر بیوی کو دیدے ، یا کسی اورکو دیدے کہ تو بیوی کے پاس پہنچادے ، چونکہ غالب اس واقعہ میں یہی ہے اس لئے جواب میں یہ قید نہیں لگائی اور اگر شوہر تین طلاق کو جائز نہ رکھے تو طلاق بلاعدد لکھنے کے لئے کہنے سے صرف ایک طلاق واقع ہوگی اورچونکہ یہ صریح ہے اس لئے رجعی واقع ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved