- فتوی نمبر: 36-136
- تاریخ: 22 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > وضوء کا بیان
استفتاء
ایک شخص نماز جنازہ کے لئے گھر سے وضو بنا کر نکلتا ہے ، جنازہ کی تکبیر سے تھوڑا سا پہلے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے جبکہ وہ شخص بہت بیمار ہے یعنی شوگر کا مریض ہے ، اور نماز جنازہ میں لاکھوں کا مجمع ہونے کی وجہ سے وضو بنانے کے لئے جا بھی نہیں سکتا اور مجمع کی کثرت کی وجہ سے بیٹھ کر تیمم بھی نہیں کر سکتا ، ایسی صورت میں اس شخص نے بغیر وضو اور تیمم کے نماز جنازہ پڑھ لی، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کی نماز جنازہ ادا ہو گئی ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں ہوئی کیونکہ جنازے کے لیے بھی طہارت ضروری ہے یعنی یا تو وضو ہو یا وضو پر قدرت نہ ہو تو تیمم ہو اور مذکورہ صورت میں وضو اور تیمم دونوں نہیں پائے گئے اس لیے نماز جنازہ ادا نہیں ہوئی۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص: 207 ) میں ہے:
لا بد لصحة الصلاة من سبعة وعشرين شيئا ، الطهارة من الحدث الأصغر والأكبر والحيض والنفاس لآية الوضوء الخ
مجمع الانہر ( 289/1) میں ہے:
قال في القنية الطهارة من النجاسة في الثوب والبدن والمكان وستر العورة شرط في حق الإمام يعني المصلي والميت جميعا.
شامی (2/ 207)میں ہے:
وأما الشروط التي ترجع إلى المصلي فهي شروط بقية الصلوات من الطهارة الحقيقية بدنا وثوبا ومكانا والحكمية وستر العورة والاستقبال والنية سوى الوقت.
شامی (1/241) میں ہے:
(و) جاز (لخوف فوت صلاة جنازة) أي كل تكبيراتها.
(قوله وجاز لخوف فوت صلاة جنازة) أي ولو كان الماء قريبا.
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:117) میں ہے:
“و” من العذر “خوف فوت صلاة الجنازة” ولو جنبا لأنها تفوت بلا خلف
قوله: “ولو جنبا” لأن صلاة الجنازة دعاء في الحقيقة وإنما أوجبنا لها التيمم لكونها مسماة بإسم الصلاة قاله السيد قوله: “لأنها تفوت بلا خلف” هذا هو الأصل في هذا الباب وهو أن ما يفوت إلى خلف لا يتيمم له عند خوف فوته وما لا خلف له يتيمم له
مسائل بہشتی زیور(1/317)میں ہے:
نماز جنازہ کے صحیح ہونے کے لیے دو قسم کی شرطیں ہیں ۔پہلی قسم کی وہ شرطیں جو نماز پڑھنے والوں سے تعلق رکھتی ہیں یہ وہی ہیں جو اور نمازوں کے لیے اوپر بیان ہو چکیں یعنی طہارت، ستر عورت، استقبال قبلہ اور نیت۔۔۔الخ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved