• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وائس میسج کے ذریعے تین طلاق دینےکاحکم

استفتاء

میرے بیٹے نے دوبئی سے اپنی بیوی کے ساتھ  وائس میسج پر اس طرح باتیں کی ہیں کہ’’ اگر تو نے میرا فون نہ اٹھایا یا میسج نہ سنا تو تو مجھ پر تین طلاقوں سے طلاق ہوگی ‘‘تو اس کے بعد اس کا فون بھی اٹھایا اور باتیں بھی کیں ۔دوسرا میسج  خاوند نےاس طرح بھیجا کہ گالی گلوچ کے ساتھ کہا کہ’’ تو مجھ پر ابھی سے طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے ‘‘پشتو میں اس طرح کہا ’’تہ پہ ماباندے وس نہ طلاق اے طلاق اے طلاق اے ‘‘اور یہ بھی کہا کہ موبائل میری ماں کو دے دو آپ جیسی عورت مجھے نہیں چاہیے ۔تیسرا میسج اس طرح ہے کہ ’’اگرآپ نے فون نہ اٹھایا تو آپ مجھ پر طلاق ہے طلاق ہے ‘‘تقریبا آٹھ نو مرتبہ کہا اب میرے بیٹے کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اگر طلاق واقع ہوگئی ہے تو کونسی طلاق واقع ہوئی ہے؟اور دوبارہ نکاح کی کیاصورت ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کو جو دوسرا  وائس میسج کیا تھا اس میں شوہر نے  بغیر کسی شرط کےواضح طور پر تین دفعہ طلاق کا جملہ بولا تھا  کہ’’ تومجھ پر ابھی سے طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے ‘‘جس سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی کوئی گنجائش ہے۔

درمختار مع رد المحتار(509/4) میں ہے :

كرر لفظ الطلاق وقع الكل (قوله كررلفظ  الطلاق )بان قال للمدخولة انت طالق انت طالق او قد طلقتك قد طلقتك او انت طالق قدطلقتك او انت طالق وانت طالق.

بدائع الصنائع (295/3)میں ہے :

واما الطلقات الثلاث فحكمها الاصلي هوزوال الملك وزوال حل المحليةايضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل{ فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}[البقره [وسواء طلقها ثلاثا متفرقا او جملةواحدة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved