• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بطور دوا بھنگ کے بیج کھانے کا حکم

استفتاء

بطور دوا بھنگ کے بیج کھانا جائز ہے یا نہیں؟

وضاحت  مطلوب ہے:1۔آپ کو کیا بیماری لاحق ہے جس کے علاج میں بھنگ کے بیج استعمال ہوں گے؟ 2۔ آپ کو یہ دوائی کس نے تجویز کی ہے ؟3۔ کیا اس بیماری کا کوئی اور علاج نہیں ہے؟

جواب وضاحت: 1۔جوڑوں کا درد ہے جسے گنٹھیا   بھی کہا جاتا ہے ۔2۔میں ایک فی میل ہوں میری عمر 27 سال ہے مجھے ایک خاتون نے یہ بتایا ہے جو وہ خود بھی استعمال کر رہی ہیں اور ان کے درد میں کافی کمی آئی ہے ۔استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ بھنگ کے بیجوں کو پیس کر دودھ میں ملا کر پیتے ہیں ۔3۔ادویات سے علاج جاری ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

غذا اور ادویہ کے بارے میں امریکی حکومتی ادارے ایف ڈی اے (Food and Drug Administration) کی  تحقیق کے  مطابق بھنگ میں نشہ اس کے پتوں اور ٹہنیوں میں ہوتا ہے اس کے بیج میں نشہ نہیں ہوتا لہذا مذکورہ صورت میں علاج کے لیے بھنگ کے بیج استعمال کرنا جائز ہے ۔

نوٹ: اگر بالفرض بھنگ کے بیج بھی نشہ آور ہوں تو علاج کی غرض سے اتنی مقدار استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جس  سے نشہ نہ آئے۔

فتاوی بزازیہ(9/265)  میں ہے :

وشرب البنج للتداوی لا بأس به

شامی (10/46) میں ہے:

 ……….. ‌فهذا ‌صريح ‌فيما قلناه مؤيد لما سبق بحثناه من تخصيص ما مر من أن ما أسكر كثيره حرم قليله بالمائعات، وهكذا يقول في غيره من الأشياء الجامدة المضرة في العقل أو غيره، يحرم تناول القدر المضر منها دون القليل النافع، لأن حرمتها ليست لعينها بل لضررها ….. …… ‌والحاصل ‌أن ‌استعمال الكثير المسكر منه حرام مطلقا كما يدل عليه كلام الغاية. وأما القليل، فإن كان للهو حرام، وإن سكر منه يقع طلاقه لأن مبدأ استعماله كان محظورا، وإن كان للتداوي وحصل منه إسكار فلا، فاغتنم هذا التحرير المفرد

شرح مختصر  الکرخی (9/ 376) میں ہے:

وقد ‌قالوا: ‌إنّ ‌شُرْب ‌البنج ‌يجوز ‌للتداوي، ‌فإذا ‌أزال ‌العقل ‌لم ‌يجز

کفایت المفتی (9/255) میں ہے:

سوال: ……….3۔یونانی ادویات میں بعض  مسکرات مثلاً افیون،  پوست، بھنگ وغیرہم مستعمل ہیں ان کے استعمال  کی کیا شرعاً اجازت ہے ؟

الجواب: ……….. 3۔جس حد تک مسکر نہ ہوں ادویہ مباح ہیں ۔

احسن الفتاویٰ (8/484) میں ہے:

مسکرجامد کاحکم: جامد مسکرات جیسے افیون وغیرہ کی اتنی مقدار جو بالفعل نشہ کرے یا اس میں ضرر شدید ہو حرام ہے، اسی طرح مقدار نشہ سے کم صرف لہو کے طور پر استعمال کرنا بھی حرام ہے، البتہ مقدار قلیل جو حد نشہ سے کم ہو دواءً استعمال کرنا جائز ہے۔

ایف ڈی اے (Food and Drug Administration) کی ویب سائٹ پر ہے:

……… The seeds themselves do not naturally contain tetrahydrocannabinol (THC), the main psychoactive ingredient in cannabis ………. Consumption of these hemp seed-derived ingredients is not capable of making consumers “high”. (www.fda.com)

ترجمہ: ان (بھنگ کے) بیجوں میں قدرتی طور پر ٹیٹرا ہائیڈرو کینا بینول (THC) نہیں ہوتا جو بھنگ میں اصل مفتر عقل  جزو ہے ……….  بھنگ کے ان بیجوں سے بنی ہوئی اشیاء میں نشہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved