• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیٹے کی جائیداد میں سے والد کو حصہ ملے گا یا نہیں؟

استفتاء

مفتی صاحب ایک آدمی نے بیوی کو طلاق دی پھر اس عورت نے اپنی زمین اپنے بیٹے کے نام کروا دی پھر چند ماہ بعد انتقال کر گئی اب اس  عورت کا بیٹا بھی انتقال کر گیا اب اس آدمی کے بیٹے کے نام جو زمین ہے اس  میں سے اس کے باپ کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ مرنے والے کے دو بیٹے ہیں ۔دادے نے بھی اپنی زمین  دوسری بیوی کے بچوں کے نام کروا دی مرنے والے کے بچوں کو  محروم کردیا  ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بیٹے کی جائیداد میں سے باپ کو حصہ ملے گا۔

شامی (10/544) میں ہے:

‌والمستحقون ‌للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان ………. (‌وللأب ‌والجد) ‌ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن) والتعصيب المطلق عند عدمهما والفرض والتعصيب مع البنت أو بنت الابن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved