- فتوی نمبر: 35-119
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے ۔ والد صاحب کے ورثاء میں بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں پھر تین بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا انتقال ہوا جو کہ شادی شدہ تھیں اور ان کے ورثاء میں شوہر اور تین بیٹیاں ہیں جو کہ حیات ہیں اور پھر اس کے بعد میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوا اور ان کی وفات کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے۔ پھر اس کے بعد ایک بیٹےکا انتقال ہوا جو کہ غیر شادی شدہ تھا اور اس کی عمر 55 سال تھی۔
میرے والد صاحب کی میراث میں تین سو نے کے سکےجو کہ تین تولے کے ہیں۔ اور ایک مکان جس کی مالیت تقریبا54 لاکھ روپیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی میراث ان وارثوں میں کیسے تقسیم ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں والد مرحوم کی وراثت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کی وراثت کو کل 1248 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے مرحوم کے بیٹے کو 558 حصے (44.71 فیصد) اور مرحوم کی موجودہ دو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کوم279،279 حصے(22.35 فیصد فی کس) اور مرحوم کی فوت شدہ بیٹی کے شوہر کو 36 حصے (2.88 فیصد) اور مرحومہ بیٹی کی تین بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 32, 32 حصے(2.56 )فیصد ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved