• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

بیمہ کی رقم کا حکم

استفتاء

ایک آدمی نے اسٹیٹ لائف بیمہ کمپنی سے ایک عدد بیمہ پالیسی خرید رکھی تھی، بیمہ کی کل مدت 20 سال تھی اور اس کی سالانہ قسط 12 ہزار سے کچھ زائد تھی، ابھی 2 قسطیں ادا کی تھیں کہ اس آدمی کا انتقال ہو گیا تو اب اس کے ورثاء کے لیے اس کے بیمہ کے مال کے بارے میں کیا حکم ہے؟

1۔ اگر یہ رقم لینا جائز ہے تو وجہ جواز؟

2۔ اگر یہ رقم لینا نا جائز ہے تو وجہ عدم جواز؟

3۔ یہ جو اس رقم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سود ہے، اس کے سود ہونے کی وجہ شریعت کی رُو سے بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں؟

4۔ ابھی بچے چھوٹے ہیں جو کہ کمانے کے قابل بھی نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ اپنی جمع کرائی ہوئی اصل رقم لے سکتے ہیں زائد نہیں۔

2۔ زائد لینا جائز نہیں، کیونکہ وہ سود ہے۔

3۔ سود ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بیمہ کمپنی پالیسی ہولڈر سے جو معاہدہ کرتی ہے، اس کے مطابق کمپنی کو نفع ہو یا نقصان پالیسی ہولڈر کے جمع کرائے ہوئے پیسے ہر صورت محفوظ رہیں گے۔ لہذا پالیسی ہولڈر شرعاً کمپنی کے کاروبار میں شریک نہیں بنتا بلکہ اسے قرض دیتا ہے، جس پر زائد پیسے وصول کرنا سود ہوتا ہے۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved