- فتوی نمبر: 32-278
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > نام رکھنے سے متعلق
استفتاء
1۔کیا بچے کا نام رشید احمد رکھنا درست ہے؟
2۔بچے کی عمر ۲۸ ماہ ہے اور اکثر بیمار رہتا ہے۔ کسی نے کہا کہ نام تبدیل کریں کیا اس نام کو بدلنا چاہیے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔بچے کا نام رشید احمد رکھنا درست ہے۔
2۔ مذکورہ نام بدلنے کی ضرورت نہیں۔
توجیہ: اگرچہ نام کا اثر آدمی کی ذات پر پڑتا ہے اس لیے اگر نام کے معنیٰ میں کوئی ایسا پہلو نکلتا ہو جس کی بچے کے بیمار رہنے کے ساتھ کچھ نہ کچھ مناسبت ہو تو ایسے نام کو بدلنے کی گنجائش ہے۔
تاہم مذکورہ نام کے معنیٰ میں ہماری معلومات کے مطابق کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس کی بچے کے بیمار رہنے کے ساتھ کچھ نہ کچھ مناسبت ہو لہذا مذکورہ نام کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔
صحیح بخاری (رقم الحدیث:5840) میں ہے:
عن سعيد بن المسيب أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ما اسمك؟ قال: اسمي حزن، قال: بل أنت سهل قال: ما أنا بمغير اسما سمانيه أبي» قال ابن المسيب: فما زالت فينا الحزونة بعد
فتاویٰ محمودیہ(19/390) میں ہے:
سوال: کوئی مرد یا عورت اگر بیمار ہوجائے تو پیر صاحب کہتے ہیں کہ اس بیمار کا جو نام رکھا ہے وہ بہت برا ہے اس کانام بدلنے سے ٹھیک ہوجائے گا۔ جاہل لوگ تسلیم کرکے اس کا نام بدل دیتے ہیں اس کا کہیں ثبوت ہے یا یہ شرک ہے؟
جواب: جو نام خلاف شرع ہو اس کو بدل دینا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ شریعت کے موافق جو نام ہو اس کو جسمانی امراض کے علاج کے لیے بدلنا ثابت نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل(8/283) میں ہے:
سوال: شریعت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کسی کے نام کا اس کی شخصیت پر اثر ہوتا ہے؟ مثال کے طور پر زید کے حالات خراب ہیں اب وہ اپنا نام بدل لیتا ہے تو کیا اس کے نام بدلنے سے اس کی شخصیت پر اثر پڑے گا؟
جواب: اچھے نام کے اچھے اثرات اور برے نام کے برے اثرات تو بلا شبہ ہوتے ہیں اس بناء پر اچھے نام رکھنے کا حکم ہے لیکن زید تو برا نام نہیں کہ اس وجہ سے زید کے حالات خراب ہوں اور نام بدل دینے سے حالات درست ہوں اس لیے آپ کی مثال درست نہیں۔
ملفوظات حکیم الامت (24/150) میں ہے:
الفاظ اور ناموں میں بھی اللہ تعالی نے تاثیر رکھی ہے ۔
امام اعظم ابو حنیفہؒ کے پڑوس میں ایک رافضی نے اپنے دو خچروں کا نام ابو بکر اور عمر رکھا تھا ( روافض کی ایسی ذلیل حرکتیں بہت معروف ہیں ) ایک روز ایک خچر نے لات مار کر اس رافضی شخص کا پیٹ پھاڑ دیا ۔ امام اعظمؒ کو خبر ہوئی تو فورا فرمایا کہ یہ وہ خچر ہو گا جس کا نام اس نے عمر رکھا تھا ۔ اس نام کا یہی اثر ہونا چاہیے تھا ۔ تحقیق کی گئی تو اس کی تصدیق ہو گئی ۔
حضرتؒ نے فرمایا کہ ناموں اور الفاظ میں بھی اللہ تعالی نے بڑی تاثیر رکھی ہے ۔ ایک لڑکے کا نام والدین نے کلیم اللہ رکھا وہ اکثر بیمار رہتا تھا میں نے اس کا نام بدل کر سلیم اللہ رکھ دیا اس وقت سے تندرست رہنے لگا کیونکہ کلیم کے معنی معروف مجروح اور زخمی کے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved