- فتوی نمبر: 31-372
- تاریخ: 15 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میرے شوہر نے کچھ سال پہلے ایک چھوٹی سے بات پر غصے میں آکر کہہ دیا کہ “میری طرف سے تم فارغ ہو ،خدا کی قسم میری طرف سے تم فارغ ہو” یہی الفاظ ادا کیے انہوں نے، میرے علم میں تب نہیں تھا کہ اس طرح کہنے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے لیکن کچھ روز پہلے اس بارے میں قرآن کی چند آیات پڑھیں تو میرے ذہن میں شوہر کی یہ بات آئی پھر اس پر کچھ اور تحقیق کی تو مفتی طارق مسعود صاحب کا ایک بیان سنا جس میں اس بارے میں بیان کیا گیا تھا کہ یہ طلاق بائن ہوتی ہے ۔ آپ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے یہ کہا ہے کہ “میری طرف سے تم فارغ ہو” تو اس جملے سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا ہے اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں، نئے نکاح میں گواہ بھی ہوں گے اور مہر بھی دوبارہ مقرر ہوگا۔
توجیہ: “فارغ ہو” کا لفظ کنایات کی قسم ثالث میں سے ہے جس میں حالت غضب میں بیوی کے حق میں شوہر کی نیت کےبغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
الدر المختار(516/4)میں ہے:
فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له ……….. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو.
و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.
احسن الفتاوی (5/188) میں ہے:
سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے “تو فارغ ہے ” یہ کون سا کنایہ ہے؟…… حضرت والا اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔بینوا توجروا
جواب : بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ فقط اللہ تعالی اعلم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved