• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھانے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  شوہر نے رمضان کے دوران  کسی بات پر غصے میں آ کر بیوی سے کہا کہ “میں اب آپ سے (ہمبستری) کروں گا ہی نہیں” اور اس بات پر اللہ کی قسم بھی کھائی،   بیوی کہتی ہے کہ یہ واقعہ 15 سے 20 رمضان کے دوران کا ہے، جبکہ شوہر کہتا ہے کہ یہ واقعہ 25 رمضان کا ہے، اس کے بعد بیوی 15 سے 20 دن شوہر کے پاس رہی  لیکن شوہر نے رجوع نہیں کیا، پھر لڑائی کی وجہ سے لڑکے کی ماں نے لڑکی کو میکے بھیج دیا ،  اب لڑکی نے 15 محرم سے عدت شروع کر دی ہے، سوال یہ ہے کہ (1) مذکورہ صورت میں ایلاء ہو گیا ہے؟ (2) کیا 4 مہینے گزرنے کے بعد طلاق بائن واقع ہو گئی ہے؟ (3) عدت کتنی ہو گی؟ (4) کیا عدت کے بعد لڑکی آزاد ہو گی؟ (5) کیا ایک طلاق کے بعد دوسری اور تیسری طلاق خود بخود ہو جائے گی؟ (6) دوبارہ نکاح کرنے کے بعد اگر شوہر نے قسم نہ توڑی تو کیا دوسری طلاق واقع ہو جائے گی؟

شوہر کا بیان:

24 یا 25 رمضان کی رات ہمبستری کے بعد اہلیہ حسب عادت طعنہ زنی کرتی رہی جس پر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ “اللہ کی قسم اب تم سے نہیں کروں گا”  اس وقت ہمبستری کے بارے میں بات چل رہی تھی اور “نہیں کروں گا” کے الفاظ  سے آئندہ ہمبستری نہیں کروں گا   مراد تھا،  25 یا 26 کی سحری کے بعد میں نے مفتی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نےمجھ سے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں اس کا کفارہ ہے آپ قسم توڑ کر کفارہ ادا کردیں، انہوں نے مجھے ایلاء اور عدت کے بارے میں آگاہی نہیں دی، میرے خیال میں اہلیہ آخری دنوں میں حیض سے تھی جس کی وجہ سے آخری روزے بھی نہیں رکھے، تین چار دن بعد عید الفطر آگئی اور اہلیہ اپنی والدہ کے گھر چلی گئی ، دو دن بعد واپس آئی، عید کے پانچویں دن ہم سب فارم ہاؤس گئے، رات واپسی پر ہم سب تھکے ہوئے تھے، سب اپنے اپنے کمرے میں آرام کو چلے گئے، میں اہلیہ کو بلاتا رہا وہ اپنے موبائل میں لگی رہی اس کے بعد میں سو گیا ، رات تقریبا ایک بجے اس نے مجھے تھپڑ مارے اور نوچا تو جواباً میں نے تھپڑ ماردیا اس کے بعد کچن سے گوشت کاٹنے والی چھری اٹھا کر لے آئی اور منہ کے پاس لا کر پھینک دی جس سے میری آنکھ کھل گئی میں نے چھری رکھی اور فوراً بیڈ کے نیچے کردی پھر میں لیٹ گیا،15،10 منٹ بعد میری دوبارہ آنکھ کھلی تو چھری اپنی جگہ پر نہیں تھی اور اہلیہ واش روم میں تھی میں نے اٹھ کر دروازہ کھٹکایا، کافی کھٹکانے کے بعد اس نے دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ایک ہاتھ میں چھری ہے تو میں نے اس کو کہا کہ تم کیا کررہی ہو؟ اور میں نے اس کو پکڑ کر باہر کیا تو اس نے ارادتاً یا غیر ارادتاً چھری میرے سامنے کردی اس موقع پر میں نے اپنے والدین کو بلایا اور ان کوسارا معاملہ بتایا اور انہوں نے دیکھا جس پر انہوں نے اہلیہ کے والدین کو فون کیا اور معاملہ بتا کر آنے کا کہا، اہلیہ کے والدین اگلے دن دوپہر 12 بجے آئے اور پھر میرے والدین نے ان کو سنگین واقعہ کی صورتحال بتائی اور والد نے ان سے یوں کہا کہ آپ اپنی بچی کو 10سے20 دن کے لیے لے کر جائیں اور واقعہ کی سنگینی سمجھائیں اور واپسی پر اس کے ہاتھ پرچہ لکھ کر بھیجیں لیکن 15 دن بعد رابطہ کرنے کے بعد پرچے کے ساتھ ان کو بھیجنے کے لیے کہا لیکن انہوں نے نہیں بھیجا اس دوران میری اہلیہ موبائل پر بات کرتی رہی تھی، اور میں نے کئی مرتبہ بیوی سے کہا بھی کہ “گھر آ جاؤ  میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا”  لیکن وہ نہیں آئی اور  انہوں نے 1.5 ماہ بعد واٹس ایپ پر یہ پیغام بھیج دیا کہ بچی کا چپٹر (معاملہ) ختم ہوگیا۔ میرے والد صاحب ان کو بیٹھنے کا کہتے رہے مگر وہ واٹس ایپ پر خود ہی سوال کرتے اور خود ہی جواب دیتے جبکہ مجھے اس دوران اپنی بچی اور اہلیہ سے ملنے بھی نہیں دیا جو کہ میرا قانونا اور شرعا حق تھا انہوں نے مجھے 45 منٹ تک گھر کے باہر کھڑا رکھا اور مجھے دونوں سے ملنے نہیں دیا۔ آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا وہ اللہ کی گرفت میں نہیں آئیں گے؟ میں نے جو کچھ  بولا مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس سے ایلاء ہو گیا، ایلاء والا معاملہ ان کو معلوم تھا اور انہوں نے رجوع  نہیں ہونے  دیا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)مذکورہ صورت میں ایلاء ہو گیا ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے یہ کہا کہ “اللہ کی قسم آج کے بعد نہیں کروں گا” تو چونکہ بات ہمبستری کی چل رہی تھی اور شوہر کی مراد بھی یہی تھی لہذا اس جملے سے ایلاء منعقد ہو گیا۔

(2) مذکورہ صورت میں چار مہینے گزرنے کے بعد  ایک بائنہ طلاق  واقع ہو گئی ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں اولا تو زبانی رجوع نہیں پایا گیا اور اگر زبانی رجوع ثابت ہو بھی جائے تب بھی طلاق واقع ہو گئی ہے، کیونکہ زبان سے رجوع کی گنجائش اس وقت ہوتی ہے جب شوہر کے جماع پر قادر نہ ہونے کا عذر پورے چار مہینے پایا جائے  جبکہ مذکورہ صورت میں   شوہر کے پاس ہمبستری کر کے رجوع کرنے کا موقع تھا اور اس نے ہمبستری نہیں کی لہذا زبانی رجوع سے ایلاء ختم نہیں ہوا۔

(3)  عدت تین حیض ہو گی۔

(4) عدت کے بعد بیوی آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، اگر سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے۔

نوٹ: دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا۔

(5)  ایک طلاق کے بعد دوسری اور تیسری طلاق خود بخود واقع نہ ہو گی۔

(6) دوبارہ نکاح کرنے کے بعد اگر شوہر نے قسم نہ توڑی اور چار ماہ کے اندر ہمبستری نہ کی  تو  دوسری بائنہ طلاق واقع ہو جائے گی۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے مطلق (مدت کی تعیین کے بغیر ) ایلاء  کیا ہے اور مطلق ایلاء  کا حکم ایلاء مؤبد کی طرح ہوتا ہے یعنی اگر شوہر نیا نکاح کرنے کے بعد چار مہینے کے اندر قسم نہ توڑے تو دوسری بائنہ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

درمختار مع  رد المحتار(5/65)میں ہے:

(ف) من الصريح (لو قال: والله) وكل ما ينعقد به اليمين (لا أقربك)

(قوله: لا أقربك) أي بلا بيان مدة، أشار إلى أنه كالمؤقت بمدة الإيلاء لأن الإطلاق كالتأبيد.

عالمگیری (1/485)میں ہے:

الإيلاء متى كان مرسلا وكان المولى صحيحا وقت الإيلاء قادرا على الجماع ففيؤه بالجماع لا باللسان هكذا في محيط السرخسي. ولو قبلها بشهوة أو لمسها بشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة أو جامع فيما دون الفرج لا يكون فيئا كذا في التتارخانية. وإن كان المولى مريضا لا يقدر على الوطء أو كانت مريضة ففيؤه أن يقول: فئت إليها فإن قال ذلك فهو كالفيء بالوطء في إبطال حكم البر ما دام مريضا كذا في الكافي.

عالمگیری (1/476)میں ہے:

فإن قربها في المدة حنث وتجب الكفارة في الحلف بالله سواء كان الحلف بذاته أو بصفة من صفاته يحلف بها عرفا وفي غيره الجزاء ويسقط الإيلاء بعد القربان وإن لم يقربها في المدة بانت بواحدة كذا في البرجندي شرح النقاية، فإن كان حلف على أربعة أشهر فقد سقطت اليمين وإن كان حلف على الأبد بأن قال: والله لا أقربك أبدا أو قال: والله لا أقربك ولم يقل أبدا فاليمين باقية إلا أنه لا يتكرر الطلاق قبل التزوج فإن تزوجها ثانيا عاد الإيلاء فإن وطئها وإلا وقعت بمضي أربعة أشهر طلقة أخرى ويعتبر ابتداء هذا الإيلاء من وقت التزوج فإن تزوجها ثالثا عاد الإيلاء ووقعت بمضي أربعة أشهر طلقة أخرى إن لم يقربها كذا في الكافي فإن تزوجها بعد زوج آخر لم يقع بذلك الإيلاء طلاق واليمين باقية فإن وطئها كفر عن يمينه كذا في الهداية.

درمختار مع  رد المحتار(5/74)میں ہے:

(عجز) عجزا حقيقيا لا حكميا كإحرام لكونه باختياره (عن وطئها لمرض بأحدهما أو صغرها، أو رتقها) ، أو جبه، أو عنته (أو بمسافة لا يقدر على قطعها في مدة الإيلاء، أو لحبسه) إذا لم يقدر على وطئها في السجن كما في البحر عن الغاية، …..وكذا حبسها ونشوزها ففيؤه (نحو) قوله بلسانه (فئت إليها) أو راجعتك، أو أبطلت الإيلاء أو رجعت عما قلت، ونحوه لأنه آذاها بالمنع فيرضيها بالوعد (فإن) قدر على الجماع في المدة ففيؤه (الوطء في الفرج) لأنه الأصل …… ومفاده اشتراط دوام العجز من وقت الإيلاء إلى مضي مدته، وبه صرح في الملتقى. وفي الحاوي: آلى وهو صحيح ثم مرض لم يكن فيؤه إلا الجماع.

(قوله: فإن قدر على الجماع إلخ) شمل ما إذا كان قادرا وقت الإيلاء ثم عجز بشرط أن يمضي زمن يقدر على وطئها بعد الإيلاء، وما إذا كان عاجزا وقته ثم قدر في المدة، وقيد بكونه في المدة لأنه لو قدر عليه بعدها لا يبطل بحر (قوله: لأنه الأصل) أي واللسان خلفه، وإذا قدر على الأصل قبل حصول المقصود بالبدل بطل كالتيمم إذا رأى الماء في صلاته بحر.

(قوله: ومفاده إلخ) أي مفاد قوله فإن قدر على الجماع إلخ أنه يشترط لصحة الفيء باللسان دوام العجز.

(قوله: وبه صرح في الملتقى) قلت وكذا في البدائع.

عالمگیری (1/485)میں ہے:

في جوامع الفقه ولو عجز عن جماعها لرتقها أو قرنها أو صغرها أو بالجب أو العنة أو كان أسيرا في دار الحرب أو لكونها ممتنعة أو كانت في مكان لا يعرفها وهي ناشزة أو بينهما أربعة أشهر لأسرع ما يكون من السير له دون غيره أو حال القاضي بينهما بشهادة الطلاق الثلاث ففيؤه باللسان بأن يقول: فئت إليها أو رجعت أو ارتجعتها أو أبطلت إيلاءها بشرط دوام العجز إلى تمام المدة…….. ثم هذا إذا كان عاجزا من وقت الإيلاء إلى أن تمضي أربعة أشهر حتى لو آلى منها وهو قادر فمكث قدر ما يمكنه جماعها ثم عرض له العجز بمرض أو بعد مسافة أو حبس أو جب أو أسر ونحو ذلك أو كان عاجزا حين آلى وزوال العجز في المدة لم يصح فيؤه باللسان كذا في فتح القدير.

درمختار (5/42) میں ہے:

(وينكح) مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved