- فتوی نمبر: 32-320
- تاریخ: 06 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
آپ کے گھر میں چار ایسے مقامات ہیں جہاں شیطان قیام کرتے ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ بہت احتیاط سے پیش آئیں:
1۔وہ بستر جس پر طویل عرصے تک کوئی نہ سوئے:
ایسا بستر شیطان کا ٹھکانہ بن سکتا ہے۔ یہ بات سنت میں ثابت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”آدمی کے لیے ایک بستر، اس کے اہل کے لیے ایک اور بستر، مہمان کے لیے ایک اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔”
لہٰذا بستر کو تہہ کرنا اور ہر دو تین دن بعد اس پر قرآنی آیات پڑھے ہوئے پانی کا چھڑکاؤ کرنا چاہیے۔
2۔حمام (غسل خانہ):
یہ تو سب جانتے ہیں کہ شیطان غسل خانے میں قیام کرتا ہے اور وہ شیطان سب سے ناپاک ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”یہ غسل خانے (پُر شیطان) ہیں، لہذا جب تم وہاں جاؤ تو کہو: ‘اعوذ بالله من الخبث والخبائث’ (یعنی اے اللہ، میں ناپاکیوں اور ناپاکوں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں)”
غسل خانے میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھنا اور وہاں خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے۔
3۔وہ کپڑے جو طویل عرصے تک بغیر استعمال یا صفائی کے لٹکے رہیں، چاہے وہ الماری میں ہوں یا باہر:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اپنے کپڑوں کو لپیٹ کر رکھو، کیونکہ شیطان ان کپڑوں میں قیام کرتا ہے جو لٹکے رہتے ہیں۔”
اکثر لوگ کپڑے تیار حالت میں لٹکا کر رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان سے محفوظ رہنے کے لیے وقتاً فوقتاً ان پر قرآنی آیات پڑھے ہوئے پانی کا چھڑکاؤ کریں یا الماری کھول کر سورۃ الفاتحہ اور آیت الکرسی پڑھیں۔
4۔آگ جلانے کی جگہ اور چولہا:
یہ شیطانوں کا پسندیدہ مقام ہے کیونکہ وہ آگ سے پیدا ہوئے ہیں۔
لہٰذا جب بھی آپ آگ کے قریب جائیں یا اسے جلانے لگیں، تو اللہ کا ذکر ضرور کریں۔اللہ ہمیں اور آپ کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔
اس بارے میں رہنمائی فرمادیں کہ کیا یہ درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ پوسٹ میں کچھ باتیں درست ہیں اور کچھ درست نہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ (نمبر1) کے تحت جو چوتھے بستر کو شیطان کا بستر کہا گیا ہے اس سے مراد وہ بستر ہے جس کی کبھی کبھار بھی آئے گئےکے لیے ضرورت نہ پڑتی ہو اور ایسے بستر سے شیطان کو دور کرنے کے لیے یہ کافی نہیں کہ اسے تہہ کرکے اور ہر دو تین بعد اس پر قرآنی آیات پڑھے ہوئے پانی کا چھڑکاؤ کرکے رکھ دیا جائے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسا بستر رکھا ہی نہ جائے جس کی کبھی کبھار بھی آئے گئے کے لیے ضرورت نہ پڑتی ہو۔
صحیح مسلم (رقم الحدیث:2084) میں ہے:
عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: «فراش للرجل، وفراش لامرأته، والثالث للضيف، والرابع للشيطان»
شرح النووی علی مسلم (رقم الحدیث:2084) میں ہے:
قوله صلى الله عليه وسلم (فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان) قال العلماء معناه أن مازاد على الحاجة فاتخاذه إنما هو للمباهاة والاختيال والالتهاء بزينة الدنيا وما كان بهذه الصفة فهو مذموم وكل مذموم يضاف إلى الشيطان لأنه يرتضيه ويوسوس به ويحسنه ويساعد عليه وقيل إنه على ظاهره وأنه إذا كان لغير حاجة كان للشيطان عليه مبيت ومقيل كما أنه يحصل له المبيت بالبيت الذي لايذكر الله تعالى صاحبه عند دخوله عشاء وأما تعديد الفراش للزوج والزوجة فلابأس به لأنه قد يحتاج كل واحد منهما إلى فراش عند المرض ونحوه وغير ذلك.
اسی طرح نمبر (2) کے تحت جو بات مذکور ہے وہ غسل خانوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ پاخانہ کرنے کی جگہ سے متعلق ہے لہٰذا اگر کسی جگہ غسل کی جگہ اور پاخانہ کی جگہ الگ الگ ہو تو غسل خانہ سے مذکورہ بات کا تعلق نہ ہوگا اسی طرح اس نمبر کے تحت غسل خانہ میں خاموشی اختیار کرنے سے متعلق جو بات کہی گئی ہے وہ بھی غسل خانوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ پاخانہ کے وقت ایک مخصوص صورتحال سے متعلق ہے۔
عن زيد بن أرقم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا أتى أحدكم الخلاء فليقل: أعوذ بالله من الخبث والخبائث “
ترجمہ: حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: پاخانے شیاطین اور جنات کے حاضر ہونے کی جگہ ہے اس لیے جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جائے تو اسے چاہیے کہ یہ دعا پڑھے “أعوذ بالله من الخبث والخبائث “(میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں)
حاشیۃ السندی علی ابن ماجہ (رقم الحدیث:1/142) میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يتناجى اثنان على غائطهما ينظر كل واحد منهما إلى عورة صاحبه فإن الله عز وجل يمقت على ذلك»
قوله (لا يتناجى) من التناجي وهو تكلم كل منهما مع الآخر سرا وهذا نفي بمعنى النهي
قوله (يمقت) كينصر أي يبغض والحديث يدل على منع تحدث واحد من المتخلين بالآخر مع نظره إلى عورة الآخر ولا يلزم منه منع تحدث المتخلي مطلقا إلا أن يقال مدار المنع على كون المتكلم متخليا ولا دخل فيه على كون المتكلم معه متخليا وإنما جاء فرض المتكلم معه متخليا من جهة أنه لا يحضر مع المتخلي في ذلك الموضع إلا مثله وأما ذكر النظر فلزيادة التقبيح ضرورة أن النظر حرام مع قطع النظر عن التحديث والتخلي فليتأمل.
شامی(1/319) میں ہے:
ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا، أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال اهـ.
أقول: قد عد التسمية من سنن الغسل فيشكل على ما ذكره تأمل. واستشكل في الحلية عموم ذلك بما في صحيح مسلم عن «عائشة – رضي الله عنها – قالت كنت أغتسل أنا ورسول الله – صلى الله عليه وسلم – من إناء بيني وبينه واحد، فيبادرني حتى أقول دع لي» وفي رواية النسائي «يبادرني وأبادره حتى يقول دعي لي وأقول أنا دع لي» ” ثم أجاب بحمله على بيان الجواز أو أن المسنون تركه ما لا مصلحة فيه ظاهرة. اهـ. أقول: أو المراد الكراهة حال الكشف فقط كما أفاده التعليل السابق، والظاهر من حاله – عليه الصلاة والسلام – أنه لا يغتسل بلا ساتر.
مرقاة المفاتيح(رقم الحدیث:356) میں ہے:
عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( «لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان، فإن الله يمقت على ذلك» )
قوله:(كاشفين عن عورتهما) ينظر كل إلى عورة صاحبه عند الذهاب أو وقت التغوط (يتحدثان) حال ثانية وقال الطيبي: يضربان ويتحدثان صفتا ” الرجلان ” لأن التعريف فيه للجنس أي: رجلان من جنس الرجال، ويجوز أن يكونا خبرين لمبتدأ محذوف أي: هما يضربان ويتحدثان استئنافا وكاشفين حال مقدرة من ضمير يضربان، ولو جعل حالا من ضمير يتحدثان لم تكن مقدرة، وعلى هذه التقادير النهي منصب على الجميع اهـ. فإن الجمع بمعنى المجموع وهو الموجب للمقت الذي هو أشد الغضب ولذا قال: (فإن الله يمقت) : بضم القاف أي: يغضب (على ذلك) أي: على ما ذكر وهو المركب من محرم وهو كشف العورة بحضرة الآخر، ومكروه وهو التحدث وقت قضاء الحاجة. قال في شرح السنة: لا يذكر الله بلسانه في قضاء الحاجة ولا في المجامعة بل في النفس
امداد الفتاویٰ (1/253) میں ہے:
غسل خانہ اور بیت الخلاء میں بات چیت کرنے کا حکم
سوال (۴۴) : قدیم ۱/ ۵۷- اغلاط العوام فی باب الاحکام میں نمبر 83 پر یہ مسئلہ ہے غسل خانہ وپاخانہ میں بات کرنے کو عوام ناجائز سمجھتے ہیں سو اس کی کچھ اصل نہیں البتہ بلا ضرورت باتیں نہ کرے اور مشکوٰۃ المصابیح میں آداب خلاء کی فصل ثانی میں یہ حدیث ہے۔
عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان، فإن الله يمقت على ذلك)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کشف عورت میں بات چیت کرنے سے اللہ تعالیٰ غصّہ ہوتے ہیں اور غسل خانہ بالخصوص پاخانہ میں کشف عورت لازمی ہے؟
الجواب : اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ دونوں اس طرح برہنہ ہوں کہ ایک دوسرے کو برہنہ دیکھتے ہوں ورنہ رجلان کی کیا تخصیص تھی۔ الرجل یضرب الغائط کاشفا عن عورته یتحدث عبارت ہوتی: وإذ لیس فلیس
اسی طرح نمبر 3 کے تحت جو حدیث مذکور ہے اولاً تو وہ ضعیف ہے حتیٰ کہ اس حدیث کے بعض راویوں کے بارے میں بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے پاس سے حدیث گھڑا کرتے تھےاور ثانیاً لپیٹ کر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہیں صاف ستھرے طریقے سے رکھو، انہیں بے ڈھنگے طریقے سے پھیلے ہوئے مت چھوڑو لہٰذا جن کپڑوں کو تیار کرکے طریقے سلیقے سے لٹکایا جاتا ہے وہ اس حدیث میں مراد نہیں ۔
نیز جو کپڑے حدیث میں مراد ہیں ان کو شیطانی اثرات سے بچانے کے لیے اتنا کافی نہیں کہ ان پر قرآنی آیات پڑھے ہوئے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے یا الماری کھول کر سورۃ الفاتحہ اور آیت الکرسی پڑھی جائے بلکہ ان کو طریقے سلیقے سے رکھنا ضروری ہے اور اتنا ہی کافی ہے۔
المعجم الاوسط للطبرانی (5702) میں ہے:
عن عمر بن موسى، عن أبي الزبير، عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اطووا ثيابكم ترجع إليها أرواحها، فإن الشيطان إذا وجد الثوب مطويا لم يلبسه، وإذا وجده منشورا لبسه»
لم يرو هذا الحديث عن أبي الزبير إلا عمر بن موسى بن وجيه، ولا يروى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، إلا بهذا الإسناد “
میزان الاعتدال (3/224) میں ہے:
(عمر بن موسى بن وجيه)
قال البخاري: منكر الحديث.وقال ابن معين: ليس بثقة.وقال ابن عدي: هو ممن يضع الحديث متنا وإسنادا وقال النسائي: متروك الحديث.وقال أبو حاتم: ذاهب الحديث، كان يضع الحديث
المقاصد الحسنہ للسخاوی (رقم الحدیث:667) میں ہے:
حديث: طي القماش يزيد في زيه، الديلمي عن جابر رفعه: طي الثوب راحته، وفي لفظ له بلا سند: إذا خلعتم ثيابكم فاطووها ترجع إليها أنفاسها، وهو عند الطبراني في الأوسط، من حديث عمر بن موسى عن أبي الزبير عن جابر رفعه بلفظ: اطووا ثيابكم ترجع إليها أرواحها، فإن الشيطان إذا وجد ثوبا مطويا لم يلبسه، وإذا وجده منشورا لبسه، وقال: إنه لا يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا بهذا الإسناد، وكلها واهية.
تذكرة الموضوعات للفتنی (ص156) میں ہے:
عن جابر رفعه بلفظ اطووا ثيابكم ترجع إليها أرواحها فإن الشيطان إذا وجد ثوبا مطويا لم يلبسه وإذا وجده منشورا لبسه وكلها واهية.
4۔ اس بات کا ثبوت ہمیں کتب حدیث میں تلاش کے باوجود نہیں ملا کہ جب آگ کے قریب جائے تو اللہ کا ذکر ضرور کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved