• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بھائیوں اور پانچ بہنوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ہم دو بھائی اور چھ بہنیں  تھے جن میں سے  ایک بہن 2008 میں وفات پا گئی۔ اب  ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں   ہیں ،  ابو جی 2010 میں اور امی جی  2019 میں وفات پا گئے،   والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے والدین ان سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ والد صاحب کے ترکہ میں  ایک ایکڑ زرعی زمین، گاؤں میں آبا ئی گھر ہے اور والدہ کے نام    ایک 5 مرلہ ذاتی  پلاٹ (زرعی) روڈ کے  فرنٹ پر ہے۔امی نے 1979ء میں یہ پلاٹ خود خریدا تھا۔ ہم پانچ بہنوں کو وراثت کا حصہ دینا چاہتے ہیں۔ سوال یہ  ہے کہ ہر وارث  کا حصہ بتادیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں والد اور والدہ دونوں کی جائیداد کے کل 72 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 16 حصے (22.22 فیصد فی کس) اور پانچ بیٹیوں میں سے ہر بیٹی  کو 8 حصے (11.11 فیصد فی کس) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved