• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دعاء “اللهم اکفنی بحلالک عن حرامک۔۔۔” کی تحقیق

استفتاء

مفتی صاحب ایک مسنون دعا کے بارے میں تحقیق مطلوب ہے :”حضرت علی ؓ فرماتے ھیکہ میرے پاس ایک مکاتب آیا اورکہا میرے پاس مال نہیں ہےبدلِ کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوں، میری  مددکیجئے حضرت علی ؓ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے  سکھلائی ہے؟  اگر تیرے پاس “کوہِ ثبیر” کے برابر بھی قرض ہوگاتو حق تعالی ادا کرینگےوہ دعا یہ ہے :

 “اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ “۔ (ترمذی حدیث3563)

یہ دعا ہرنماز کے بعد پڑھنا ہے

مفتی صاحب ۔اس دعا کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کرنا درست ہے یا نہیں ؟ ہمارے ایک محترم دوست نوجوان عالمِ دین جس کو اللہ تعالی نے علوم ِحدیث میں مہارت عطا فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ اس روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ضعیف ہے فضائل کے باب میں گنجائش ہے لیکن اس کی نسبت آپ ﷺ کی طرف نہ کرے اور نہ اس اعتقاد کے ساتھ عمل کرے کہ یہ آپﷺ سے ثابت ہے ۔

مفتی صاحب ، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس روایت کی نسبت آپ  ﷺکی طرف کرنا درست نہیں اور نہ اس اعتقاد سے عمل کرنا کہ یہ آپ ﷺ سے ثابت ہے تو اس روایت کو بیان کرنے کا طریقہ کیا ہوگا ؟ جہاں تک ہمارے اکابر علمائے دیوبند نے اس روایت کو لکھا ہے تو وہاں تو ان دو شرائط کا ذکر نہیں کیا بلکہ آپﷺ کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے۔براہ کرم تحقیقی جواب دے کر بندہ کی الجھن دور فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اول تو مذکورہ روایت محدثین کرام ؒ کے نزدیک ضعیف نہیں بلکہ امام حاکمؒ نے اسے صحیح کہا ہے اور امام ترمذیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے اسے حسن کہا ہے چنانچہ ترمذی (رقم الحدیث 3563) میں ہے

قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب

نتائج الافکار للحافظ ابن حجر(4/127) میں ہے  :

هذا حديث حسن غريب

المستدرک  علی الصحیحین  للحاکم (رقم الحدیث 1929) میں ہے   :

هذا حديث صحيح الإسناد ، ولم يخرجاه

نیز عبدالرحمن بن اسحاق کی وجہ سے بھی مذکورہ روایت کو ضعیف کہنا درست نہیں کیونکہ  اس سے مراد “عبدالرحمن بن اسحاق بن عبداللہ بن الحارث کنانہ المدنی القرشی” ہیں جوکہ صحیح مسلم کےراوی ہیں اور محدثین کے ہاں مقبول اور قابلِ اعتماد راوی ہیں چنانچہ حافظ ابن حجرؒ نے اسے “صدوق “کہا ہے (التقریب ص369)۔امام یحیی بن معین ؒ فرماتے ہیں یہ ثقہ (قابل اعتماد) راوی ہیں  (تاریخ ابن معین 1/127)البتہ بعض محدثین نے اسے قدری ہونے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے لیکن حدیث کے معاملہ میں یہ راوی حسن الحدیث  ہیں چنانچہ علّامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں : “قال أبو داود قدري ثقة وضعفه بعضهم“(الکاشف 1/620)اور امام ابوحاتم رازیؒ الجرح و التعدیل (5/212) میں فرماتے ہیں :

 ” يكتب حديثه ولا يحتج به، وهو قريب من محمد بن اسحاق صاحب المغازى، وهو حسن الحديث وليس بثبت ولا قوى وهو اصلح من عبد الرحمن بن اسحاق ابي شيبة “۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ روایت ضعیف بھی ہو تب بھی اس کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کرنا درست ہے البتہ نسبت کرنے کیلئے جزم کے صیغے استعمال نہ کئے جائیں بلکہ تمریض قیل ، رُوی وغیرہ کے صیغے استعمال کئے جائیں نیز تمریض کے صیغے استعمال کرنے کی بات بھی تب ہے جب بغیر سند کے نسبت کی جائے۔

 اس طرح یہ بات کہ”ضعیف حدیث پر عمل کے وقت اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے” کا مطلب یہ ہے اس عمل کے آپﷺ سے یقینی طور پر ثابت ہونے کا عقیدہ نہ رکھے بلکہ احتیاط کے پیشِ نظر اسے اپنا معمول بنائے کیونکہ اگر یہ ضعیف حدیث فی نفسہ آپ ﷺ سے ثابت ہوئی تو اس نے اس پر عمل کرہی لیا اور اگر ثابت نہ ہوئی تو اس عمل سے تحلیل و تحریم کا کوئی مفسدہ لازم نہ آئے گا ۔ نیز ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی مذکورہ شرائط بھی ایک قول کے مطابق ہیں ورنہ ایک قول مطلقا عمل کے جواز کا بھی ہے ۔

ردالمحتار (1/274)  میں ہے  :

قال ابن حجر في شرح الاربعين: لانه إن كان صحيحا في نفس الامر فقد أعطي حقه من العمل، وإلا لم يترتب على العمل به مفسدة تحليل ولا تحريم ولا ضياع حق للغير، وفي حديث ضعيف من بلغه عني ثواب عمل فعمله حصل له أجره وإن لم أكن قلته أو كما قال ا ه ط.قال السيوطي: ويعمل به أيضا في الاحكام إذا كان فيه احتياط.۔۔۔۔۔۔ قوله: (وأن لا يعتقد سنية ذلك الحديث) أي سنية العمل به. وعبارة السيوطي في شرح التقريب: الثالث أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته بل يعتقد الاحتياط، وقیل لا يجوز العمل به مطلقا، وقيل يجوز مطلقا ا ه. ۔۔۔۔۔ أما الضعيف فتجوز روايته بلا بيان ضعفه لكن إذا أردت روايته بغير إسناد فلا تقل قال رسول الله (ص) كذا وما أشبهه من صيغ الجزم، بل قل روي كذا وبلغنا كذا أو ورد أو جاء أو نقل عنه وما أشبهه من صيغ التمريض، وكذا ما شك في صحته وضعفه كما في التقريب.

المجموع شرح المھذب (1/73) میں ہے  :

قال العلماء المحققون من أهل الحديث وغيرهم : إذا كان الحديث ضعيفاً لا يقال فيه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أو فعل أو أمر أو نهى أو حكم ، وما أشبه ذلك من صيغ الجزم ، وكذا لا يقال فيه رَوى أبو هريرة أو قال أو ذكر أو أخبر أو حدث أو نقل أو أفتى وما أشبهه ، وكذا لا يقال ذلك في التابعين ومن بعدهم فيما كان ضعيفاً فلا يقال في شيء من ذلك بصيغة الجزم .وإنما يقال في هذا كله رُوِيَ عنه أو نُقل عنه أو حُكي عنه أو جاء عنه أو بلغنا عنه أو يقال أو يذكر أو يحكى أو يروى أو يرفع أو يعزى ، وما أشبه ذلك من صيغ التمريض وليست من صيغ الجزم . قالوا فصيغ الجزم موضوعة للصحيح أو الحسن ، وصيغ التمريض لما سواهما . وذلك أن صيغة الجزم تقتضي صحته عن المضاف إليه ، فلا ينبغي أن يطلق إلا فيما صح وإلا فيكون الإنسان في معنى الكاذب عليه . وهذا الأدب أخل به المصنف ، وجماهير الفقهاء من أصحابنا وغيرهم ، بل جماهير أصحاب العلوم مطلقاً ما عدا حذاق المحدثين؛ وذلك تساهل قبيح، فإنهم يقولون كثيراً في الصحيح : رُوِيَ عنه ، وفي الضعيف : قال وروى فلان ، وهذا حيد عن الصواب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved