- فتوی نمبر: 32-226
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دنیا میں کسی عورت سے محبت ہو گئی اور کسی سبب اس سے شادی نہ کر سکا تو اگر اس کے حق مہر کے عوض رقم صدقہ کر دے اور اللہ سے اس عورت کو مانگ لے کہ وہ آخرت میں اس کی بیوی بن جائے تو اللہ سے یہ امید ہے کہ اس کی یہ دعا قبول فرمائیں گے۔ اور دنیا میں جو حرام ہے تو ضروری نہیں کہ آخرت میں بھی حرام ہو تو آخرت میں چار سے زیادہ نکاح بھی کر سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
1۔کیا یہ روایت ٹھیک ہے؟
2۔ اگر ٹھیک ہے تو حق مہر کیسے مقرر کیا جائے اور کیسے دیا جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ یہ کوئی حدیث نہیں ہے بلکہ علامہ ابن تیمیہؒ کی اپنی بات ہے جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے۔
2۔ جب یہ حدیث ہی نہیں تو اس چکر میں پڑنے کی بھی ضرورت نہیں کہ حق مہر کیسے مقرر کیا جائے اور کیسے دیا جائے۔
نوٹ: علامہ ابن تیمیہؒ کی اپنی بات بھی اس صورت میں ہے جب کسی عورت سے محبت کے لیے ناجائز ذرائع استعمال نہ کیے جائیں جبکہ آجکل کے معاشرے میں عموماً کسی عورت سے محبت ناجائز ذرائع کا نتیجہ ہوتی ہے۔
الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیہ (5/ 461) میں ہے:
«وإذا أحب امرأة في الدنيا ولم يتزوجها وتصدق بمهرها وطلبها من الله تعالى أن تكون له زوجة في الآخرة رجي له ذلك من الله تعالى ولا يحرم في الآخرة ما يحرم في الدنيا من التزويج بأكثر من أربع والجمع بين الأختين ولا يمنع أن يجمع بين المرأة وبنتها»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved