- فتوی نمبر: 36-287
- تاریخ: 01 اکتوبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > پردے کا بیان
استفتاء
غیر محرم سے بات کرنے کا کوئی گناہ ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: غیر محرم سے بات کرنے کی کیا مجبوری ہے؟
جواب وضاحت: ہم اس سے پاکیزہ محبت کرتے ہیں اور نکاح کرنا چاہتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں غیر محرم سے بات کرنا گناہ ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار (6/ 369)میں ہے:
وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها ويرد السلام عليها وإلا لا انتهى، وبه بان أن لفظه لا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه
وفي الشامية: (قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ.
وفي الذخيرة: وإذا عطس فشمتته المرأة فإن عجوزا رد عليها وإلا رد في نفسه اهـ وكذا لو عطست هي كما في الخلاصة (قوله في نقل القهستاني) أي عن بيع المبسوط (قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ وفي المجتبى رامزا، وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 285) میں ہے:
ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها؛ لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ
أحكام القرآن للجصاص (3/ 470) میں ہے:
قوله تعالى: {فلا تخضعن بالقول فيطمع الذي في قلبه مرض} . قيل فيه أن لا تلين القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن من أهل الريبة. وفيه الدلالة على أن ذلك حكم سائر النساء في نهيهن عن إلانة القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن ويستدل به على رغبتهن فيهم، والدلالة على أن الأحسن بالمرأة أن لا ترفع صوتها بحيث يسمعها الرجال. وفيه الدلالة على أن المرأة منهية عن الأذان، وكذلك قال أصحابنا وقال الله تعالى في آية أخرى: {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} [النور: 31] فإذا كانت منهية عن إسماع صوت خلخالها فكلامها إذا كانت شابة تخشى من قبلها الفتنة أولى بالنهي عنه.
احسن الفتاوی (8/40)میں ہے:
غیر محرمہ عورتوں سے بقدر ضرورت بات کرنا جائز ہے بلا ضرورت جائز نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (8/46 ) میں ہے:
س: کیا منگنی کے بعد بھی منگیتر سے بات چیت پر پابندی ہے؟
ج… جس سے نکاح کرنا ہو، شریعت نے اسے ایک نظر دیکھ لینے کی اجازت دی ہے، تاکہ پسند و ناپسند کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے علاوہ منگیتر کا حکم بھی اجنبی کا ہے جب تک نکاح نہ ہو۔
امدادالفتاوی (9/233 ) میں ہے:
سوال : میں نے اپنے گھر میں عرصہ سے تجوید بقدر احتیاج سکھائی ہے اللہ کا شکر ہے کہ با قاعدہ پڑھنے لگی ہیں ، جن لوگوں کو اس امر کی اطلاع ہے وہ کبھی آکر یوں کہتے ہیں کہ ہم سننا چاہتے ہیں، اور ہیں معتمد لوگ، تو پردہ میں سے سنوا دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر چہ ایسا کبھی کیا نہیں، بعد علم جیسا ہو گا ویسا کروں گا ؟
الجواب : ہرگز نہیں۔
لأنه إسماع صوت المرأة بلاضرورة شرعية
آپ کے مسائل اور ان کا حل 8/265 میں ہے:
اسلام میں مرد و عورت کے رشتہٴ محبت کی شکل نکاح تجویز کی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلام “دوستی”کی اجازت نہیں دیتا۔ ہماری تعلیم گاہوں میں لڑکے لڑکیاں جس محبت کی نمائش کرتی ہیں، یہ اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ مغرب کی نقالی ہے، اور یہ “منقش سانپ” جس کو ڈَس لیتا ہے وہ اس کے زہر کی تلخی تادمِ آخر محسوس کرتا ہے۔ مغرب کو اسی محبت کے کھیل نے جنسی انارکی کے جہنم میں دھکیلا ہے، ہمارے نوجوانوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved