- فتوی نمبر: 35-205
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاؤں کا رواج ہے کہ لوگ رات کو جانور کھول دیتے ہیں, میں عشاء کی نماز کے لیے جا رہا تھا تو میرا جانور(گائے) میرے پیچھے آتا رہا اور راستے میں میرے بھائی کے گھر پر رک گیا میں نماز کے لیے چلا گیا اور وہ جانور میرے بھائی کے گھر میں چلا گیا جب میں نماز پڑھ کر واپس آیا تو میرا جانور میرے بھائی کے گھر بے ہوش پڑا تھا اور ارد گرد لوگ جمع تھے مجھے معلوم نہیں کہ میرے بھائی نے اس کو کس چیز سے مارا ہے البتہ مجھےقصائی نے بتایا کہ اس جانور کو چار پانچ ڈنڈے مارے گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی رگ پھٹ گئی ہے میں جب اپنے بھائی کے گھر سے گزر رہا تھا تو اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو رہا تھا یعنی میرا بھائی اس وقت غصے میں تھا میرا جانور پہلے بیمار بھی نہیں تھا بلکہ بالکل صحت مند تھا البتہ پھر میں نے وہ جانور قصائی کو بیچ دیا اس جانور کی قیمت تو ایک لاکھ روپے تھی لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے وہ جانور 26 ہزار کا بکا اب میرا اپنے بھائی سے مطالبہ ہے کہ جو میرا نقصان ہوا ہے یعنی 74 ہزار روپے کا وہ نقصان وہ پورا کرے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس کا تاوان میرے بھائی پر آئے گا یا نہیں؟
بھائی ( جس نے گائے کو مارا تھا ) کا بیان :
میرے گھر میرے بھائی کا جانور آیا تو میں نے اسے گھر سے باہر نکالنے کی نیت سے ڈنڈا مارا اور میں نے ڈنڈا دور سے پھینکا وہ جانور کو لگا اور جانور فورا گر گیا جانور کو ڈنڈا عشاء کے وقت مارا تھا اور جانور پوری رات زندہ رہا اگلے دن بھی زندہ رہا اگلی رات جانورکو مالک نے قصائی کو بیچ دیا اور زندہ حالت میں بیچا جو کہ 26 ہزار کا بکا لوگ عام طور پر جانور کو گھر سے نکالنے کے لیے تھوڑی بہت مار پیٹ کرتے ہیں میں نے بھی ایسے ہی کیا میرا مقصد اس جانور کو نقصان پہنچانا نہیں تھا رات کا وقت ہونے کی وجہ سے مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ ڈنڈا جانور کے کس حصے پر لگا تھا۔
تنقیح:1۔ دونوں بھائی اس بات پر متفق ہیں کہ جانور بکنے تک زندہ رہا البتہ ڈنڈا لگنے کے بعد بے ہوش ہو گیا تھا ۔ 2۔جانور کو گھر سے نکالنے کیلئے ڈنڈا مارنا ضروری نہیں ہوتا اس کے بغیر بھی نکالا جا سکتا ہے بس لوگ کبھی ایسے بھی نکال دیتے ہیں اور کبھی دور سے کوئی چیز مار کر نکال دیتے ہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جانور کے مالک کا جو نقصان ہو ا ہے اس کا تاوان اس کے بھائی پر آئے گا۔
مجمع الضمانات (ص146)میں ہے:
«المباشر ضامن وإن لم يتعمد ولم يتعد والمتسبب لا يضمن إلا أن يتعد، فلو رمى سهما إلى هدف في ملكه فأصاب إنسانا ضمن»
حاشیہ ابن عابدین (9/324) میں ہے:
(فإن ذبح شاة غيره) ونحوها مما يؤكل (طرحها المالك عليه وأخذ قيمتها أو أخذها وضمنه نقصانها وكذا) الحكم (لو قطع يدها) أو قطع طرف دابة غير مأكولة كذا في الملتقى قيل: ولفظ غير: غير سديد هنا. قلت: قوله غير سديد غير سديد لثبوت الخيار في غير المأكولة أيضا لكن إذا اختار ربها أخذها لا يضمنه شيئا وعليه الفتوى كما نقله المصنف عن العمادية فليحفظ
(قوله أو أخذها وضمنه نقصانها)لأنه إتلاف من وجه لفوات بعض المنافع كالحمل والدر والنسل، وبقاء بعضها وهو اللحم درر (قوله وكذا الحكم لو قطع يدها) ؛ لأنه إتلاف من وجه أيضا وهذا في مثل البقر ونحوه ظاهر، وكذا في الشاة لأنها تضعف عن الذهاب إلى المرعى فيقل درها ويضعف نسلها تأمل……..(قوله غير سديد هنا)لأن قوله أو أخذها وضمنه نقصانها خاص بالمأكولة وعلى إسقاط لفظة غير يكون من التعميم بعد التخصيص (قوله قلت إلخ) جواب عن الملتقى.
وحاصله: أن مراده بإلحاق غير المأكولة بالمأكولة في الحكم من حيث وجود التخيير فيهما بين طرحها على الغاصب وبين إمساكها وإن كان بينهما فرق من حيث إنه إذا أمسك المأكولة له أن يضمن الغاصب النقصان، بخلاف غير المأكولة لما علمت من وجود الاستهلاك من كل وجه، وقد نبه الشارح على هذا الفرق بقوله: لكن إذا اختار إلخ فافهم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
