- فتوی نمبر: 26-81
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
عن عمرة ، قالت : قيل لعائشة : ماذا كان يعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته؟ قالت: «كان بشرا من البشر ، يفلي ثوبه ، ويحلب شاته ، ويخدم نفسه»
حضرت عمرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اقدس ﷺ دولت کدہ پر کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : حضور اکرم ﷺ آدمیوں میں سے ایک آدمی تھے اپنے کپڑے میں خود ہی جوں تلاش کرلیتے تھے اور خود ہی بکری کا دودھ نکال لیتے تھے اور اپنے کام خود ہی کرلیتے تھے۔ (الشمائل المحمدیہ للترمذی)
میں نے یہ حدیث شیئر کی تو ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ تمہارا مطلب ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ صاف ستھرے نہیں رہا کرتے تھے اس لئے جوں پڑجاتی تھی ،نعوذ باللہ ۔اس کی وضاحت فرمادیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث کا ترجمہ درست ہے البتہ رسول اللہ ﷺ کا کپڑے سے جوں تلاش کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ صاف ستھرے نہیں رہا کرتے تھے جس کی وجہ سے خود آپ ﷺ کے بدن یا کپڑو ں میں جوں پیدا ہوجاتی تھی بلکہ اس جوں کے آپﷺ کے بدن یا کپڑوں پر ہونے کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ آپﷺ لوگوں سے ملتے جلتے تھے اس لئے کسی سے جوں آپ کے کپڑوں میں منتقل ہوجاتی اور آپﷺ فارغ اوقات میں کپڑوں کو صاف کرلیتے۔ نیز جن احادیث میں سر سے جوں نکالنے کا تذکرہ ملتا ہے ان احادیث سے بعض محدثین نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سر کو راحت پہنچانا مراد لیا ہے۔
الکوکب الدری علی جامع الترمذی (2/431) میں ہے :
قوله : (تفلي راسه) لم تكن القمل في راسه لتكونها من التفل و لم يكن هناك فاما ان يراد مجرد الفحص لما فيه من الراحة او ان يكون من غيره فوصل اليه.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved