- فتوی نمبر: 32-264
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
کیا ایسی کوئی ایک حدیث یا مختلف حدیثیں ہیں جن میں یہ مندرجہ ذیل فرمان ہوں یا جس کے الفاظ اس سے ملتے جلتے ہوں۔ اگر ہے تو اس کا حوالہ اور سند بھی برائے مہربانی بتا دیں۔
اللہ کے نبی نے مہاجرین کی جماعت سے فرمایا کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ یہ پانچ چیزیں تم لوگوں میں آئیں۔
١- جس قوم میں بے حیائی عام ہو جائے اللہ اس قوم میں ایسے امراض بھیجتا ہے جس کا پچھلوں نے کبھی سنا نہیں ہوتا۔
٢- جو ناپ تول میں کمی کرے، اللہ ان پر ظالم بادشاہ مسلط کرتے ہیں۔
٣- جو قوم زکوۃ کو تاوان سمجھے ان پر رزق تنگ کر دیا جاتا ہے کہ آسمان سے ایک قطرہ بھی نہ برسے اگر زمین پر بے زبان جانور نہ ہوں۔
٤- جو وعدہ خلافی کرتے ہیں، اللہ اس قوم کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
٥- جس قوم میں عدل نہیں ہو گا، اللہ اس قوم میں آپس میں خانہ جنگی کرا دیتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ حدیث سنن ابن ماجہ اور مسند البزار میں موجود ہے۔
سنن ابن ماجہ (رقم الحدیث:4019) کے الفاظ وترجمہ یہ ہے:
عن عبد الله بن عمر، قال: أقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ” يا معشر المهاجرين خمس إذا ابتليتم بهن، وأعوذ بالله أن تدركوهن: لم تظهر الفاحشة في قوم قط، حتى يعلنوا بها، إلا فشا فيهم الطاعون، والأوجاع التي لم تكن مضت في أسلافهم الذين مضوا، ولم ينقصوا المكيال والميزان، إلا أخذوا بالسنين، وشدة المئونة، وجور السلطان عليهم، ولم يمنعوا زكاة أموالهم، إلا منعوا القطر من السماء، ولولا البهائم لم يمطروا، ولم ينقضوا عهد الله، وعهد رسوله، إلا سلط الله عليهم عدوا من غيرهم، فأخذوا بعض ما في أيديهم، وما لم تحكم أئمتهم بكتاب الله، ويتخيروا مما أنزل الله، إلا جعل الله بأسهم بينهم “
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے جماعت مہاجرین پانچ چیزوں میں جب تم مبتلا ہوجاؤ اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تم ان چیزوں میں مبتلا ہوجاؤ ۔ اول یہ کہ جس قوم میں فحاشی اعلانیہ ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط مصائب اور بادشاہوں (حکمرانوں) کے ظلم وستم میں مبتلا کردی جاتی ہے اور جب کوئی قوم اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتی تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر چوپائے نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے اور جو قوم اللہ اور اس کے رسول کے عہد توڑتی ہے تو اللہ غیروں کو ان پر مسلط کردیتا ہے جو اس قوم سے عدوات رکھتے ہیں پھر وہ ان کے اموال چھین لیتے ہیں اور جب مسلمان حکمران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نظام میں (مرضی کے کچھ احکام) اختیار کرلیتے ہیں (اور باقی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو خانہ جنگی اور) باہمی اختلافات میں مبتلا فرمادیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved