• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حديث ” من صلى خلف عالم فكانما صلى خلف نبي… ” کی تحقیق

استفتاء

“من صلى خلف عالم فكانما صلى خلف نبي و من صلى خلف نبي فقد غفر له “

مفتی صاحب یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ حدیث مذکورہ الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں ہمیں نہیں ملی البتہ اس حدیث کومتعدد کتب فقہ میں ذکر کیا گیا ہے تاہم نہ کتب فقہ میں اس کی سند مذکورہے اور نہ کہیں اور ہمیں اس کی سند مل سکی لہذا جب تک سند معلوم نہ ہو اس وقت تک اس کی صحت و ضعف پر کلام نہیں کیا جاسکتا ۔ اور بعض کتب موضوعات میں اس کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ “ لااصل له ” یا “لم یصح” تو یہ الفاظ اس حدیث کے موضوع (من گھڑت )ہونے میں صریح نہیں ۔ البتہ اس حدیث  کا مضمون چونکہ دیگر روایات سے ثابت ہے چنانچہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ “علماء انبیاء کے وارث ہیں ” اور مراد متقی علماء ہیں اور اسی طرح ایک حدیث میں علماء کو انبیاء کی طرح کہا گیا ہے لہذ ا متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھنا انبیاء کے وارث کے پیچھے نماز پڑھنا ہے جو گویا کہ نبی کے پیچھے نماز پڑھنے کی طرح ہے اور باعث مغفرۃ ہے ۔

اعلاء السنن (4/223) میں ہے   :

قال صاحب الهداية : فإن تساووا فأورعهم لقوله عليه السلام: من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي اه قلت : هذا الحديث بهذا اللفظ غريب قاله الزيلعي (1/238) و قد مّر بمعناه حديث رواه الطبراني عن مرثد الغنوي و حسنه العزيزي لغيره ، فتذكر .

ہدایہ کے حاشیہ  (1/125)  میں مولانا عبد الحی لکھنویؒ فرماتےہیں  :

 لقوله عليه السلام من صلى..الخ ولان المستحب في الخلافة ان يقدم العالم الورع التقي وهي لامر الدنيا فلان يستحب في التقدمة في باب الصلوة و هي لامر الدين اولى كذا في المبسوطين . لقوله عليه السلام روى الطبراني مرفوعا ان سركم ان تقبل صلاتكم فليومكم علماءكم فانهم وفدكم ما بينكم و بين ربكم و اخرج الحاكم و البيهقي نحوه و اما لفظ الحديث المذكور في الكتاب فلم يوجد بل قال بعض المحدثين انه موضوع و عندي انه ماخوذ من حديث علماء امتي كانبياء بني اسرائيل و هو حديث مشهور بين الالسنة و ذكره السيوطي في أنموذج اللبيب و الحافظ العيني في شرح خطبة الكتاب بلا سند لكن ذكر السخاوي في المقاصد الحسنة انه حديث لم يوجد ۔ 

التشرف از حکیم الامت مولانا اشرف علی التھانویؒ (ص 149/ص41)

حدیث : “میری  امت کے علماء مثل انبیاء بنی اسرائیل کے ہیں “( حافظ سخاوی فرماتے ہیں) ہمارے شیخ (حافظ ابن حجرؒ) نے کہا ہے  اور ان کے قبل دمیری اور زرکشی نے کہا ہے کہ اس کی کچھ اصل نہیں ، بعض نے اتنا اور زیادہ کیا کہ یہ حدیث کسی معتبر کتاب میں بھی معلوم نہیں ہوئی ۔ف : میں کہتا ہوں کہ لیکن اس کا مضمون صحیح  ہے اور اس حدیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ علماءوارث ہیں  انبیاء کے،”مقاصد” میں اس حدیث کے باب میں کہا ہے کہ اس کا احمدؒ و ابوداود ؒو ترمذیؒ نے اور دوسروں نے بھی ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ان ہی الفاظ سے مرفوعا روایت کیا ہے  مع اس زیادت کے کہ “انبیاء میراث میں نہ دینار چھوڑا نہ درہم چھوڑا صرف علم کو میراث میں چھوڑا ہے” اور اس حدیث کو ابن حبانؒ اور حاکمؒ وغیرہ نے صحیح کہا ہے اور حمزہ کنانیؒ نے حسن کہا ہے اور  ان کے غیر نے ضعیف کہا ہے بوجہ اس کے کہ  اس کی سند میں اضطراب ہے لیکن اس کے شواہد متعدد ہیں جن سے اس کو تقویت ہوجاتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved