- فتوی نمبر: 37-101
- تاریخ: 02 نومبر 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
جو شخص حج کرے اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی (مشکوۃ:2756)
اس حدیث پاک کی وضاحت فرما دیں اور سند کی بھی تصدیق کر دیں درست ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ حدیث سنداً حسن ہے اور اس کی وضاحت بمع ترجمہ وتشریح مندرجہ ذیل ہے۔
حضرت شیخ الحدیثؒ “فضائل حج” میں لکھتے ہیں:
فائدہ: مشکوۃ شریف میں ارشاد نقل کیا گیا کہ” جس شخص نے حج کیا، پھر میری قبر کی زیارت کی ، وہ مثل اس شخص کے ہے جس نے میری زندگی میں زیارت کی ہو”
اس کے مثل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صحابی ہو گیا بلکہ مطلب یہ ہے کہ انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں، تو گویا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ زندگی میں کوئی شخص در دولت پر حاضر ہوا اور مکان کے باہر سے ہی مل کر آئے۔
اس حدیث میں یہ فرمایا گیا کہ حج کے بعد میری زیارت کرےاس میں علماء کا اختلاف ہے کہ مدینہ طیبہ کی حاضری پہلے ہونا چاہیے یا حج پہلے کرنا چاہیے؟
ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ہمارے اکثر مشایخ کی یہ رائے ہے کہ حج پہلے کرنا چاہیے، لیکن موجہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر وقت میں وسیع گنجائش ہو کہ حج سے پہلے زیارت اطمینان سے کر سکے اور پھر حج بھی اطمینان سے ہو سکے تو زیارت پہلے کرلے، ایسا نہ ہو کہ حج کے بعد کوئی عارض پیش آجائے ، البتہ اگر وقت میں تنگی ہو تو حج کو مقدم کرے۔
ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ اگر حج فرض ہے تب تو حج کو مقدم کرنا چاہیے بشرطیکہ مدینہ منورہ راستہ میں نہ ہو۔ اگر راستے میں پڑتا ہو تو پھر بغیر زیارت کے آگے بڑھنا قساوت ہے۔
یہ بہر حال ضروری ہے کہ حج کے وقت میں گنجائش ہو، اس کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو، اور اگر حج نفل ہے تو اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے مقدم کرے، اور اولیٰ یہ ہے کہ حج کو مقدم کرے تا کہ گناہوں سے حج کی بدولت پاک ہو کر روضہ پاک کی زیارت کرے۔ (ماخوذ از فضائل حج، ص:144، شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ)
اعلاءالسنن(10/502)میں ہے:
وقد ظفرت بحديث آخر جيد الإسناد عندى فلأذكره هناك وإن كان محله المتن، وقد ذكرته في المتن في أبواب الجنائز من هذا الكتاب. وهو ما رواه الدارقطني والطبراني في “الكبير” و”الأوسط” وغيرهما من طريق حفص بن أبى داود القارى عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر رضی الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: من حج فزار قبرى بعد وفاتي كان كمن زارنی في حياتي. ورواه ابن الجوزى فى بئر العزم للساكن من طريق الحسن بن الطيب حدثنا على بن حجر حدثنا حفص بن سليمان عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر رضى الله عنهما قال: قال رسول اللهﷺ : من حج فزار قبرى بعد موتى كان كمن زارني في حياتي وصحبني». قال ابن عساكر:
تفرد بقوله: ” وصحبنى الحسن بن الطيب عن على بن حجر، وفيه نظر، وهي زيادة منكرة. قال السبكي ولم ينفرد بها ابن الطيب، فقد رواه كذلك ابن عدى في ” كامله” من طريق الحسن بن سفيان عن علي بن حجر بالسند المتقدم، والتشبيه ” بمن صحبني ” لا يقتضى التشبيه به من كل وجه حتى يناقضه قوله: لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا الحديث كما زعمه بعضهم. اهـ من “وفاء الوفاء ملخصا (۳۹۷:۲).
قلت: بل هو مثل قوله ﷺ: فضل العالم على العابد كفضلى على أدناكم، فكذلك فضل من زار قبر النبي ﷺ على غير الزائر كفضل الصحابي على غيره فافهم.
وتكلم بعض الحفاظ في هذا الحديث لأجل حفص ابن أبي داود، وليث بن أبي سليم. وأجابه عنه السبكي بأن حفص بن أبي داود وثقه أحمد، ثم روى ذلك عنه من طريقين. قال: وذلك مقدم على من روى عنه تضعيفه وضعفه جماعة، وهو حفص بن سليمان القاري الغاضري على ما قاله البخاري وابن أبي حاتم وابن عدى وابن حبان وغيرهم. وهو لم ينفرد بهذا الحديث. ودعوی البیهقی انفراده به بحسب اطلاعه، فقد جاء في “الكبير” و “الأوسط” للطبراني متابعته، فإنه رواه من طريق عائشة بنت يونس امرأة الليث عن ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن ابن عمر مرفوعا: «من زار قبری بعد موتى كان كمن زارني في حياتي. قال الهيثمي فيه عائشة بنت يونس ولم أجد من ترجمها. كذا في ” وفاء الوفاء” (۳۹۸:۲).
قلت: ولا ضير، فقد صرح الذهبي بأنه لم يجد في النساء من تركت، إنما هن ما بين ثقات أو مستورات، كما مر في المقدمة. وليث بن أبي سليم حسن الحديث عندنا قد استشهد به البخاري وروى له مسلم، وحسن له الترمذى أحاديث، كما مر غير مرة، فالحديث حسن جيد الإسناد. ورحم الله طائفة قد أغمضت عيونها عن كل ذلك، وأنكرت مشروعية زيارة قبر هذا النبي الكريم، وحرمت عن مثل هذا الفضل العظيم، وزعمت أن لا ينوى الزائر إلا مسجد النبي ﷺ فقط، ولم تدر أن فضيلة المسجد إنما هي لأجل بركة النبي ﷺ، فجواز نية المسجد يستدعى جواز نية زيارتهﷺ بالأولى. فالله يهديهم ويصلح بالهم، ويرزقنا وجميع المسلمين والمسلمات فضيلة صحبة النبيﷺبزيارة قبره، ويجمع بيننا وبينه كما آمنا به ولم نره.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved