• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ہر نیک عمل کے شروع میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکی رضا کی نیت کرنا

استفتاء

ایک شخص کا کہنا ہے کہ میں ہر کام(نیک عمل) کے شروع میں اللہ اور اس کے رسول ﷺکی رضا کی (دل میں)نیت کرتا  ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح نیت کرنا ٹھیک ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس طرح نیت کرنا ٹھیک ہے۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں   رسول اللہﷺ کی رضا کی نیت سے چونکہ اس شخص کی مراد یہ ہے کہ میرے اس عمل  سےرسول اللہ ﷺ کی اتباع ہوگی اوراس سے آپ ﷺ خوش ہوں گے  اور نتیجتاً اللہ پاک بھی خوش ہوں گے تو اس طرح کی نیت کرنا درست ہے۔

روح المعانی (3/ 88)   میں ہے:

من ‌يطع ‌الرسول فقد أطاع الله بيان لأحكام رسالته صلى الله عليه وسلم إثر بيان تحققها، وإنما كان كذلك لأن الآمر والناهي في الحقيقة هو الحق سبحانه، والرسول إنما هو مبلغ للأمر والنهي فليست الطاعة له بالذات إنما هي لمن بلغ عنه.

وفي بعض الآثار عن مقاتل أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول: من أحبني فقد أحب الله تعالى ومن أطاعني فقد أطاع الله تعالى

تفسیر روح المعانی (5/ 317)میں ہے:

وتوحيد الضمير في يرضوه مع أن الظاهر بعد العطف بالواو التثنية لأن ‌إرضاء ‌الرسول عليه الصلاة والسلام لا ينفك عن إرضاء الله تعالى ومن يطع الرسول فقد أطاع الله [النساء: 89] فلتلازمهما جعلا كشيء واحد فعاد إليهما الضمير المفرد

مجموع الفتاوى لابن  تیمیہ (24/ 338)میں ہے:

فالعبادة والخشية والتوكل والدعاء والرجاء والخوف لله وحده لا يشركه فيه أحد وأما الطاعة والمحبة والإرضاء: فعلينا أن نطيع الله ورسوله ونحب الله ورسوله ونرضي الله ورسوله؛ لأن طاعة الرسول طاعة لله وإرضاءه إرضاء لله وحبه من حب الله

منہاج السنۃ النبویہ للعلامہ ابن تیمیہ (8/ 491) میں ہے:

وهذا كما في قوله: {والله ورسوله أحق أن يرضوه} [سورة التوبة: 62] ، فإن الضمير [في قوله: (أحق أن يرضوه) ] إن عاد إلى الله، فإرضاؤه لا يكون إلا بإرضاء الرسول، وإن عاد إلى الرسول فإنه لا يكون (إرضاؤه إلا بإرضاء الله، فلما كان إرضاؤهما لا يحصل أحدهما إلا مع الآخر، وهما يحصلان بشيء) واحد، والمقصود بالقصد الأول إرضاء الله وإرضاء الرسول تابع، وحد الضمير في قوله: {أحق أن يرضوه}۔

فتاوی محمودیہ (3/557)میں ہے:

سوال :حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ قرآن شریف کی تلاوت فرمارہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو تعریف فرمائی ، جب ان کو پتہ چلا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر ہم کو معلوم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو اور اچھا پڑھتا ، اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی فرمائش پر قرآن پڑھا جائے اور خوب سنوار کر پڑھا جائے تو جائز ہے، لہذا اگر نماز تراویح میں کسی کی رعایت سے خوب سنوار کر اس کا دل خوش کرنے کے لئے پڑھا جائے تو کیا حکم ہے کہ مؤمن کا دل خوش کرنا بھی ثواب ہے؟

الجواب: اس میں شک نہیں کہ مؤمن کا دل خوش کرنے میں بھی ثواب ہے، لیکن جو عبادت اللہ تعالی کے لئے کی جاتی ہے اس میں نیت اللہ تعالی کو خوش کرنے کی ہی ہونی چاہئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی کو خوش کرنا ہے: ومن يطع الرسول فقد أطاع الله ورنہ اللہ تعالیٰ کی عبادت مخلوق کو خوش کرنے کی نیت سے کی جائے تو شرک کا خطرہ ہے۔” فمن کان یرجو لقاء ربه فلیعمل عملاً صالحاً  ولا یشرک بعبادة ربه احداً

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved