• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حضرت فاطمہؓ اورلکڑ ہارے کی بیوی کے قصہ کی تحقیق

استفتاء

پہلی جنتی خاتون :ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اے میرے بابا اللہ کے رسول ﷺ مجھے بتائیں کہ وہ کونسی عورت ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائےگی ۔نبی پاک ﷺ نے فرمایا : اے میری شہزادی یہاں پاس ہی ایک لکڑہارے کی بیوی ہے جو تم سے پہلے جنت میں جائے گی ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس عورت کو ملنے دوسرے دن اس کے گھر  گئیں تو اس لکڑ ہارے کی بیوی نے بنا دروازہ کھولے پوچھا کون ؟ حضرت فاطمہؓ  نے فرمایا  میں بنت رسول ہوں آپ سے ملنا چاہتی ہوں تو لکڑ ہارے کی بیوی نے جواب دیا میرا شوہر گھر پے نہیں اور میں اس کی اجازت کے بغیر آپ کو گھر میں داخل نہیں کرسکتی آپ معذرت سے کل آنا میں اجازت لے لوں گی ۔ دوسرے دن حضرت فاطمہؓ امام حسن ؓ کو بھی ساتھ لے لیتی ہیں اور جاکر دروازے پر دستک دیتیں ہیں اور دروازے کے اندر سے آواز آتی ہے کون ؟تو آپ فرماتی ہیں میں بنت رسول ہوں اور آج اپنے بڑے بیٹے حسن کو بھی ساتھ لائی ہوں لکڑ ہارے کی بیوی بنا دروازہ کھولے کہہ دیتی ہیں کہ اجازت آپ کے لئے لی تھی آپ کے بیٹے کے لئے نہیں حضرت فاطمہ دوسرے دن بھی بنا ملے چلی جاتی ہیں تیسرے دن حضرت فاطمہؓ  امام حسنؓ اور حسین ؓدونوں کو ساتھ لے کر چل پڑتیں ہیں لیکن تیسرے دن بھی بنا ملے لوٹ آتی ہیں لکڑ ہارے کی بیوی کہتی ہے کہ شوہر سے امام حسینؓ کی اجازت نہیں لی الغرض چوتھے دن اجازت مل جاتی ہے حضرت فاطمہ ؓ اور لکڑ ہارے کی بیوی خوب باتیں کرتیں ہیں باتوں باتوں میں پتہ چلتا ہے کہ لکڑ ہارے کی بیوی روزانہ رات کو پچھلے پہر ایک ٹانگ پر کھڑی ہوکر اللہ سے اپنے شوہر کے لئے دعا کرتی ہیں ۔حضرت فاطمہؓ گھر  لوٹ کر آتی ہیں اور رسول اللہ ﷺکو سارا واقعہ بتا دیتیں ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : بیشک میری بیٹی تم خاتونِ جنت ہو مگر جب تم اونٹنی پر بیٹھ کر جنت میں جاؤ گی اس اونٹنی کی مہار یعنی رسی اس لکڑ ہارے کی بیوی کے ہاتھ میں ہوگی ۔

حضرت مفتی صاحب کیا یہ واقعہ سچ یعنی صحیح ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمیں یہ واقعہ  اہل سنت کی کسی معتبر کتاب میں نہیں ملا البتہ اہل تشیع میں سے بعض نے اسے بغیر سند کے ذکر کیا ہے اس لئے بظاہر یہ واقعہ سچا نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved