• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حضورﷺ کی وصیت لکھنے سے متعلق روایت کی تحقیق

استفتاء

جب حضورﷺ کا آخری وقت تھا تو  حضورﷺ نے فرمایا قلم دوات منگوائے  وصیت کے لیے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا  ہمیں حضور ﷺ کی وصیت کی ضرورت نہیں ہمارے لیے خدا کافی ہے۔

شیعہ کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے حضورﷺ کی نہیں مانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ بات درست نہیں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فرمایا کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حدیث میں یہ بات مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ابھی شدت مرض اور تکلیف میں ہیں لہذا  اس وقت لکھوانے کی تکلیف دینا مناسب نہیں  اگر کوئی ضروری بات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد میں لکھوا دیں گے نیز حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ فرمانا حسبنا کتاب الله یعنی ہمیں کتاب اللہ کافی ہے اس سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ ہمیں سنت رسول کی ضرورت نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ  جو حضرات وہاں موجود تھے ان کی اس آ یت “اليوم اكملت لكم دينكم“کی طرف توجہ دلانا مقصود تھی کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اس وقت جو لکھوانا چاہتے ہیں وہ کوئی بہت ضروری بات نہیں ہے  اور اگر پھر بھی دین کی کوئی ضروری بات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لکھوادیں گے  نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے بعد چند ایام حیات رہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کچھ لکھوانا چاہتے تو ضرور لکھوادیتے  لہذا معلوم ہوا  کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ  کےرائے  کے موافق ہو گئی تھی جیساکہ اور کئی مواقع پر بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

نیز یہی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی فرمائی تھی تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ آپ مجھے ویسے بتا دیں میں یاد کر لوں گا۔

صحیح بخاری (رقم الحدیث:5669) میں ہے:

حدثنا ‌إبراهيم بن موسى: حدثنا ‌هشام، عن ‌معمر وحدثني ‌عبد الله بن محمد: حدثنا ‌عبد الرزاق: أخبرنا ‌معمر، عن ‌الزهري، عن ‌عبيد الله بن عبد الله، عن ‌ابن عباس رضي الله عنهما قال: «لما حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي البيت رجال فيهم عمر بن الخطاب، قال النبي صلى الله عليه وسلم: هلم أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده، فقال عمر: إن النبي صلى الله عليه وسلم قد غلب عليه الوجع وعندكم القرآن، ‌حسبنا ‌كتاب ‌الله، فاختلف أهل البيت فاختصموا، منهم من يقول: قربوا يكتب لكم النبي صلى الله عليه وسلم كتابا لن تضلوا بعده، ومنهم من يقول ما قال عمر، فلما أكثروا اللغو والاختلاف عند النبي صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قوموا. قال عبيد الله فكان ابن عباس يقول: إن الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين أن يكتب لهم ذلك الكتاب من اختلافهم ولغطهم.»

مسند احمد (رقم الحدیث:693) میں ہے:

حدثنا بكر بن عيسى الراسبي، حدثنا عمر بن الفضل، عن نعيم بن يزيد، عن علي بن أبي طالب، قال: أمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن آتيه ‌بطبق يكتب فيه ما لا تضل أمته من بعده، قال: فخشيت أن تفوتني نفسه، قال: قلت: إني أحفظ وأعي. قال: ” أوصي بالصلاة، والزكاة، وما ملكت أيمانكم “

سیر اعلام النبلاء (2/458) میں ہے:

وأنما أراد عمر رضى الله عنه التخفيف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رأه شديد الوجع، لعلمه أن الله قد أكمل ديننا، ولو كان ذلك الكتاب واجبا لكتبه النبي صلى الله عليه وسلم لهم، ولما أخل به.

لامع الدراری (ص:64) میں ہے:

قال الحافظ : اختلف في المراد بالكتاب ، فقيل : كان أراد أن يكتب كتاباً ينص فيه على الأحكام ليرتفع الاختلاف ، وقيل : بل أراد أن ينص على أسامى الخلفاء بعده حتى لا يقع بينهما الاختلاف، قال ابوسفيان بن عيينة ويؤيده انه صلى الله عليه وسلم قال في أوائل مرضه وهو عند عائشة “ادعوا لي كتابا حتي  اكتب كتابا فاني اخاف ان يتمنى متمني ويقول قائل ويأبى الله والمؤمنون الا ابابكر”، أخرجه مسلم وللبخاري معناه والاول اظهر لقول عمر حسبنا كتاب الله أى كافين مع انه يشمل وجه الثانى لانه بعض افراده انتهى

قلت : والثاني أظهر لموافقة قوله له : ( حتى أكتب كتاباً ، فتأمل . وقال شيخ المشايخ في ” تراجمه ” : إن هذا المقام من مزالق الأقدام كم زلت فيه الأعلام وصغت فيه الأفهام ، و إلى قد تحققت بعد تتبع طرق هذا الحديث يعنى أمره صلى الله عليه وسلم بالكتاب أن قول ابن عباس : الرزية كل الرزية ، إنما كان بطريق الشبهة مثل سائر شبهاته ، لأنه ثبت في الروايات الصحيحة أن كبار الصحابة مثل أبي بكر وعلى وغيرهما كانوا حاضرين ففهموا من أمره أن مقصوده بالكتابة ليس إلا تأكيد ما جاء في القرآن والتوثيق به ، ولو كان شيئاً آخر لأمرهم ثانياً وثالثاً لأنه عاش بعد ذلك أياماً ومع ذلك روى أنه أمر علياً بإحضار القرطاس والدواة ، فخاف على فوته بعد أن يذهب ، فقال يا رسول الله : أسمع وأعى ، فبين له رسول الله ﷺ من أحكام الصدقات ، و إخراج الكفار من جزيرة العرب و إجازة الوفود وغير ما بين أكثره قبل ذلك أيضاً ؛ فبعد ذلك لم يبق مجال في أن يتمسك بشبهة ابن عباس ، و يقال ما يقال في أخيار الصحابة لأنه كان حديث السن مناهز البلوغ ، والاعتبار بما فهمه كبار الصحابة رضى الله عنهم أجمعين ، انتهى

قلت : وما ذكره الشيخ من حديث على أخرجه البخاري في ” الأدب المفرد ” وأحمد في ” مسنده ” و ابن سعد وغيرهم …

قال الحافظ : دل أمره صلى الله عليه وسلم لهم بالقيام على أن أمره صلى الله عليه وسلم الأول كان على الاختيار ، ولهذا عاش عليه السلام بعد ذلك أياماً ولم يعاود أمرهم بذلك ، ولو كان واجباً لم يتركه لاختلافهم لأنه لم يترك التبليغ المخالفة من خالف، وقد كان الصحابة يراجعونه في بعض الأمور ما لم يجزم فإذا عزم امتثلوا ، انتهى . قلت : وهذا ظاهر فإن أمره صلى الله عليه وسلم ذاك كان يوم الخميس وقد عاش ﷺ بعد ذلك خمسة أيام ، وأوصاهم بوصايا عديدة كإجازة الوفود وإخراج المشركين من جزيرة العرب وغير ذلك ، وقد خطب رسول الله على المنبر وكان ذلك يوم السبت وقت الظهر وقد عصب على رأسه حاشية برد ، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ( أوصيكم بالأنصار ، الحديث ، وفيه عدة وصايا لهم .

تقریر بخاری (ص: 197) میں ہے:

قال عمر ان النبي  غلبه الوجع وعندنا كتاب الله حسبنا : جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کو قلم دوات طلب فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کو منع کر دیا اور کہنے لگے کہ حضور  اقدس کو  تکلیف ہے ہمارے لئے کتاب اللہ کافی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی ان کے اس منع فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما حضور اقدس کے وزیر اور مشیر تھے خاصۃ اور دیگر امورمیں دخیل تھے عامۃ ۔ اس لئے حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ نے یہی مناسب سمجھا کہ اس وقت حضورﷺ کو تکلیف نہ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے جوتے لے کر جنت کی بشارت دینے چلے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے راستے ہی میں ان کے سینے پر اس زور سے ہاتھ مارا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنه سرین کے بل گر پڑے تھے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کرنے چلے پیچھے پیچھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی  بھی پہنچ لئے کہ حضور ایسا نہ فرمائیے۔ لہذا حضرت عمر رضی اللہ تعالی کے تو اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ہی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے کام کرتے تھے۔ اسی طرح ایک بار ازواج مطہرات نان نفقہ طلب کر رہی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے یہ ساری از واج آڑ میں چلی گئیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا عمر سے شیطان بھی بھاگتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ دریافت کر کے فرمایا: یا عدوات انفسکن اتهبنني ولا تهبن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور اقدس نے کچھ بھی ارشاد نہیں فرمایا لہذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اعتراض نہیں کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کی بلکہ ان کو دلالۃ اجازت تھی اس بنا پر انہوں نے منع فرمایا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اس دن حضور اقدس کو بہت تکلیف تھی اور تکلیف کی تیزی کی وجہ سے ڈول کے ڈول پانی کے آپ پر ڈالے جارہے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ تکلیف برداشت نہ ہوئی اس لئے انہوں نے منع فرمادیا کیونکہ لکھنے سے اور تکلیف ہوتی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ پنجشنبہ کی شام کا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال دوشنبہ کو ہوا تو اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا تھا تو جمعہ یا اتوار کو لکھوا دیتے کیونکہ اس دوران طبیعت مبارکہ ٹھیک ہوگئی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ بھی دیا اور اس میں مہاجرین کے فضائل بیان فرمائے اور انصار کے متعلق بیان فرمایا کہ ان کے محسنین کے ساتھ اچھا معاملہ کریں اور انکے مسیئین سے تجاوز کریں اور چوتھا جواب یہ ہے کہ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تھا کہ قلم دوات لاؤ کچھ لکھدوں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور زبان مبارک سے فرمادیں اس کو یاد کرلوں گا لکھنے کی ضرورت نہیں تو اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بقول روافض بے ادبی کی تو ادھر بھی تو بے ادبی ہوئی ۔ یہ روایت ابن سعد کی ہے صحاح کی نہیں۔ اور پانچواں جواب یہ ہے کہ حضور اکرم  کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی کے متعلق لکھوانا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ لکھوانے کا خیال ہی نہیں تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری جلد ثانی میں صفحہ ایک ہزار بہتر (۱۰۷۲) پر ایک روایت آرہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :أردت أن أرسل إلى أبى بكر وابنه فاعهد أن يقول القائلون أو يتمنى المتمنون ثم قلت يأبي الله ويدفع المومنون (الحدیث) اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کی خلافت لکھوانی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تو گویا رافضیوں کا بھلا کیا کہ حضور کو لکھنے سے منع کر دیا اگر لکھ دیتے تو یہ پھر  حکم قطعی ہو جاتا اور رافضیوں کو کوئی چارہ کار ہی نہ رہتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved