- فتوی نمبر: 32-291
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :مجھے محمود بن ربیع نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کی ہے،انہو ں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے ام القرآن (فاتحہ ) نہیں پڑھی ۔
جنا ب یہ حدیث دیکھیں اور مہربانی فرماکر مجھے جواب دیجیئے کہ مسلک حنفیہ میں ایسا کیوں نہیں کہ امام کے پیچھے بھی سورۃ الفاتحہ پڑھی جا ئے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حدیث میں صرف یہ ہے کہ جو شخص سورۃ الفا تحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی اس کے حنفیہ بھی قائل ہیں اس میں امام کے پیچھے پڑ ھنے کاذکر ہی نہیں ہے جبکہ اس حدیث کے راوی حضرت سفیان ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس شخص کے متعلق ہے جو اکیلا نمازپڑھے چنانچہ سنن ابو داؤد (رقم الحديث 822) میں ہے :
حدثنا قتيبة بن سعيد وابن السرح قالا:نا سفيان، عن الزهري ، عن محمود بن الربيع ، عن عبادة بن الصامت يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب فصاعدا.قال سفيان: لمن يصلي وحده
باقی رہی یہ بات کےحنفیہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ کیو ں نہیں پڑھتے اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں ۔
صحيح مسلم (1/ 406) میں ہے:
حدثنا يحيى بن يحيى ويحيى بن أيوب وقتيبة بن سعيد وابن حجر ( قال يحيى ابن يحيى أخبرنا وقال الآخرون حدثنا إسماعيل وهو ابن جعفر ) عن يزيد بن خصيفة عن ابن قسيط عن عطاء بن يسار أنه أخبره أنه سأل زيد بن ثابت عن القراءة مع الإمام ؟ فقال لا قراءة مع الإمام في شيء.
ترجمہ: عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی الله عنہ سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ امام کے ساتھ کسی نماز میں کوئی قراءت نہیں۔
سنن النسائی (2/ 141) میں ہے:
أخبرنا الجارود بن معاذ الترمذي، قال: حدثنا أبو خالد الأحمر، عن محمد بن عجلان، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا قرأ فأنصتوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد”.
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: امام کو اس لیے امام بنایا گیا کہ تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، پس امام جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب امام قراءت شروع کرے تو تم خاموش رہو، اور جب سمع الله لمن حمدہ کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو۔
موطأ امام مالک (1/ 84) میں ہے:
وحدثني عن مالك عن أبي نعيم وهب بن كيسان أنه سمع جابر بن عبد الله يقول :من صلى ركعة لم يقرأ فيها بأم القرآن فلم يصل إلا وراء الإمام۔
ترجمہ: حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنہ فرماتے ہیں: کہ جس نے رکعت پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس نے نماز نہیں پڑھی، مگر امام کے پیچھے (ہو تو قراءت نہ کرے)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved