- فتوی نمبر: 26-70
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کرنے کا بیان
استفتاء
کیانماز میں امام صاحب کے پیچھے سورتِ فاتحہ پڑھنا جائز ہے ؟دلیل کے ساتھ تحریر ی جواب چاہیے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
حنفیہ کے نزدیک امام کے پیچھے سورتِ فاتحہ پڑھنا جائز نہیں ۔
مسلم شریف(رقم الحدیث، 404 ) میں ہے:
قال النّبي صلّی اللّه عليه وسلّم :إذا صلیتم فأقیموا صفوفکم ، ثم لیؤمکم أحدکم فإذا کبرفکبروا، فإذا قال:غیر المغضوب عليهم ولا الضالین ،فقولوا: آمین… وعن قتادة وإذا قرأ فأنصتوا
ترجمہ: نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرلو،پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرائے،جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ ”غیر المغضوب علیہم ولا الضّالین“کہے تو تم آمین کہو اورحضرت قتادہؒ سےاس حدیث میں یہ اضافہ بھی مروی ہےکہ آپ ﷺنے فرمایا:جب (امام )قرأت کرے تو تم خاموش رہو ۔
شرح معانی الآثار (رقم الحدیث، 1265 )میں ہے:
“عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من صلى ركعة فلم يقرأ فيها بأم القرآن فلم يصل إلا وراء الإمام”
ترجمہ:حضرت جابر بن عبدللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو گویا اس نے نماز نہیں پڑھی مگر یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔
سنن نسائی(رقم الحدیث، 922 )میں ہے:
“عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد”
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بلاشبہ امام اس لیے بنایا گیا ہے تا کہ اس کی اقتداء کی جائے ،جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» کہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved