- فتوی نمبر: 32-309
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: تحقیقی فتاوی > حدیثی فتاوی جات
استفتاء
علماء سے اکثر یہ حدیث سنی جاتی ہے “إتقوا مواضع التهمة“کیا یہ حدیث درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ حدیث متعدد اہل علم نے ذکر کی ہے تاہم ہماری معلومات کی حد تک کسی نے اس کی سند ذکر نہیں کی ، نیز علامہ عبدالرؤف مناوی نے اپنی کتاب “کنوز الحقائق” میں اسے امام بخاری ؒ کی تاریخ کے حوالے سے بغیر سند کے ذکر کیا ہے تاہم ہمیں اپنی تلاش کی حد تک امام بخاریؒ کی تاریخ “التاریخ الکبیر، التاریخ الاوسط، التاریخ الصغیر” میں سے کسی میں نہیں ملی لہٰذا جب تک اس کی سند نہ ملے اس وقت تک سند کے لحاظ سے اس کے صحیح ہونے، نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ البتہ دیگر احادیث کے پیشِ نظر یہ حدیث اپنے معنیٰ ومضمون کے لحاظ سے درست ہے۔
احیاء علوم الدین، ابو حامد محمد بن محمد الطوسی ت:505ھ (3/36) میں ہے
ومن أبوابه سوء الظن بالمسلمين قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إثم} فمن يحكم بشر على غيره بالظن بعثه الشيطان على أن يطول فيه اللسان بالغيبة فيهلك أو يقصر في القيام بحقوقه أو يتوانى في إكرامه وينظر إليه بعين الاحتقار ويرى نفسه خيراً منه وكل ذلك من المهلكات ولأجل ذلك منع الشرع من التعرض للتهم فقال صلى الله عليه وسلم اتقوا مواضع التهم
کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق، عبدالرؤف المناوی(ص:5) میں ہے:
إتقوا مواضع التهم [تخ]
تفسیر الرازی، ابوعبداللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین ، التیمی الرازی، (ت:606ھ) (29/590) میں ہے:
أما قوله: قالت إن أبي يدعوك ليجزيك أجر ما سقيت لنا ففيه إشكالات: أحدها: كيف ساغ لموسى عليه السلام أن يعمل بقول امرأة وأن يمشي معها وهي أجنبية، فإن ذلك يورث التهمة العظيمة،وقال عليه السلام: «اتقوا مواضع التهم»
اللباب فی علوم الکتاب ، ابوحفص سراج الدین،ت:775ھ (15/240) میں ہے:
قال صلى الله عليه وسلم: اتقوا مواضع التهمة
السراج المنير ،شمس الدين(ت:977ھ) (3/92) میں ہے:
قال صلى الله عليه وسلم: اتقوا مواضع التهمة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved