• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“جانور اپنے خالق کو پہچانتا ہے لیکن افسوس انسان اپنے خالق کو نہیں پہچانتا” کی تحقیق

استفتاء

“جانور اپنے خالق کو پہچانتا ہے لیکن افسوس  انسان اپنے خالق کو نہیں پہچانتا”

مفتی صاحب یہ حدیث ہے یا کسی کا قول ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ  حدیث تو ہے لیکن مرفوع حدیث  نہیں ہے یعنی حضور ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ  مقطوع حدیث ہے یعنی ایک مشہور تابعی حضرت عطاءؒ کا  قول ہے اور تابعیؒ کا قول بھی حدیث ہی کی ایک قسم ہے اور مقطوع حدیث کہلاتا ہے۔نیز حدیث میں انسان کا ذکر نہیں ہے بلکہ کافر کا ذکر ہے۔

تفسیر قرطبی (7/325) میں ہے:

قال عطاء: ‌الأنعام ‌تعرف ‌الله، والكافر لا يعرفه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved